صدارتی اختیارات میں اضافے سے دلچسپی نہیں صوبائی ایسوسی ایشنز کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے اقدامات کئے جائیں گےپریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد(سپورٹس رپورٹر) پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے صدر سید محسن گیلانی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ نئے پی ایف ایف آئین میں فٹبال کے تمام متعلقہ حلقوں کی نمائندگی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ انہوں نے ملک بھر میں قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر فٹبال گورننس کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ایک جامع اصلاحاتی پروگرام کا بھی اعلان کیا۔
فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے زیر اہتمام دو روزہ گورننس ورکشاپ کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ آئینی اصلاحات کا عمل پاکستان میں فٹبال کے لیے ایک زیادہ جامع، شفاف اور نمائندہ نظام قائم کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔“مجھے ایسے آئینی اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں جو پی ایف ایف صدر کے اختیارات میں اضافہ کریں۔ میں نئے پی ایف ایف آئین میں فٹبال کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی زیادہ نمائندگی کے لیے لڑوں گا۔”انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کے گورننس ڈھانچے میں خواتین فٹبال، فٹسل، بیچ سوکر، ای فٹبال، صوبائی فٹبال ایسوسی ایشنز، کلبز اور فٹبال کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے دیگر تمام شعبوں کو مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے۔
یہ ورکشاپ فیفا کے ہیڈ آف ممبر ایسوسی ایشنز گورننس رولف ٹینر اور اے ایف سی کے سینئر منیجر (ساؤتھ ایشیا یونٹ، ممبر ایسوسی ایشنز اینڈ ریجنل ایسوسی ایشنز ڈویژن) سونم جِگمی کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس میں فیفا اور اے ایف سی کے گورننس معیارات کے مطابق نئے آئینی فریم ورک پر تفصیلی غور کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رولف ٹینر نے ورکشاپ کے دوران ہونے والی مثبت اور تعمیری گفتگو کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز نے بھرپور انداز میں سوالات اٹھائے اور مجوزہ اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر وضاحت حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ اس عمل سے شرکاء کے خدشات دور کرنے، آئینی اصلاحات کے مقاصد کو بہتر طور پر سمجھنے اور اصلاحاتی عمل پر اعتماد سازی میں مدد ملی۔ٹینر نے مزید بتایا کہ آئینی اصلاحات کا یہ عمل صرف قومی سطح تک محدود نہیں رہے گا۔ نئے پی ایف ایف آئین کی منظوری کے بعد اسی طرز کے آئینی ڈھانچے صوبائی سطح پر متعارف کرائے جائیں گے، جس کے بعد ضلعی سطح پر بھی ان اصلاحات کا نفاذ کیا جائے گا تاکہ پورے ملک میں فٹبال گورننس کا ایک مربوط اور ہم آہنگ نظام قائم ہو سکے۔
یہ آئینی جائزہ فیفا کی اس ہدایت کے تحت کیا جا رہا ہے جس کے مطابق پی ایف ایف کو اپنے آئین اور قواعد و ضوابط کو جدید فیفا گورننس معیارات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ دو روزہ ورکشاپ میں جمہوری نمائندگی، ادارہ جاتی خودمختاری، انتخابی طریقہ کار، شفافیت، احتساب، مالی نگرانی، آزاد کمیٹیوں کے کردار اور فٹبال گورننس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت سمیت متعدد اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سید محسن گیلانی نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا کہ پی ایف ایف، فیفا اور اے ایف سی کے تعاون سے صوبائی فٹبال ایسوسی ایشنز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پیشہ ور جنرل سیکریٹریز کی تقرری میں معاونت فراہم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صوبائی سطح پر فٹبال انتظامیہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا اور فٹبال ترقیاتی پروگراموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔
پی ایف ایف حکام نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی اصلاحات کا عمل وسیع مشاورت کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ورکشاپ کے بعد فٹبال کمیونٹی کے مختلف حلقوں کے ساتھ مزید مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ ان کی آراء اور تجاویز کو حتمی آئین میں شامل کیا جا سکے۔
ان مشاورتوں میں صوبائی ایسوسی ایشنز، کلبز، خواتین فٹبال، فٹسل، بیچ سوکر، ای فٹبال اور دیگر متعلقہ شعبوں کے نمائندے شریک ہوں گے تاکہ نیا آئینی فریم ورک پاکستان کے وسیع تر فٹبال خاندان کی ضروریات اور توقعات کی حقیقی عکاسی کر سکے۔
پی ایف ایف، فیفا اور اے ایف سی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اصلاحاتی عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے گا اور ایسا جدید گورننس ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا جو پاکستان میں فٹبال کی طویل المدتی ترقی، استحکام اور فروغ کی مضبوط بنیاد بن سکے۔




