صدارتی تقریبات کی مشترکہ ویڈیو کوریج معطل ،کسی اخبار میںان کی تصویر شائع نہیں ہوگی
CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس تک رسائی سے روکنا ٹرمپ انتظامیہ کو مہنگا پڑ گیا
ABC، CBS، CNN، Fox News اور NBC پر مشتمل ٹی وی پریس پول نے صدارتی تقریبات کی مشترکہ ویڈیو کوریج معطل کر دی
رسائی روکنا آئینی طور پر آزاد صحافت کے حقوق سے متصادم،CNN، MS NOW اور Politico فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت چلے گئے
ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس بھی ڈٹ گئے “Trump TV” کے نام سے 24 گھنٹے کی آن لائن ویڈیو اسٹریم شروع کردی

اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان جاری تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے .CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس تک رسائی سے روکنا ٹرمپ انتظامیہ کو مہنگا پڑ گیا،ABC، CBS، CNN، Fox News اور NBC پر مشتمل ٹی وی پریس پول نے صدارتی تقریبات کی مشترکہ ویڈیو کوریج معطل کر دی کوئی اخبار بھی ٹرمپ کی تصویر شائع نہیںکرے گا.رسائی روکنا آئینی طور پر آزاد صحافت کے حقوق سے متصادم،CNN، MS NOW اور Politico فیصلے کے خلاف وفاقی عدالت چلے گئے ہیں.
یا د رہے کہ 18 ستمبر کو ٹرمپ انتظامیہ نے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس تک رسائی سے روک دیا۔ تھا ٹرمپ نے ان اداروں پر “FAKE NEWS” کی کوریج کا الزام لگایا تھا. جس کے جواب میں امریکی میڈیا متحد ہوگیا اور ABC، CBS، CNN، Fox News اور NBC پر مشتمل ٹی وی پریس پول نے ٹرمپ کی صدارتی تقریبات کی مشترکہ ویڈیو کوریج معطل کر دی۔
CNN، MS NOW اور Politico نے حکومت کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ بھی دائر کردیا ہے، جس میں ان کا مؤقف ہے کہ رسائی روکنا آئینی طور پر آزاد صحافت کے حقوق سے متصادم ہے۔
اسی دوران وائٹ ہاؤس نے “Trump TV” کے نام سے 24 گھنٹے کی آن لائن ویڈیو اسٹریم شروع کی، جس میں صدر اور انتظامیہ کی تقریبات براہِ راست یا ریکارڈ شدہ شکل میں دکھائی جا رہی ہیں۔



