ججزکیخلاف ریفرنس پر احتجاج کا معاملہ وکلادو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے،پنجاب بارکونسل اور وکلا ایکشن کمیٹی کاہڑتال کی کال واپس لینے کامطالبہ

اسلام آباد :ججزکیخلاف ریفرنس پر احتجاج کے معاملہ پر وکلادو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ، پنجاب بار کونسل اور وکلا ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ اسلام آباد میں آل پاکستان نمائندہ وکلا کنونشن میں احتجاج سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے پنجاب بار کونسل اوروکلا ایکشن کمیٹی کی جانب سے پاکستان بار کونسل سے 14جون کی ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔قرار داد میں کہا گیا کہ 8جون کی وکلا قرار داد اور اداروں کو دھمکیوں کی مذمت کرتے ہیں ۔وکلا سپریم جوڈیشل کونسل کیساتھ ہیں ۔وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے استعفیٰ کے مطالبہ کی مخالفت کرتے ہیں۔صدر پاکستان نے ججز کیخلاف جو ریفرنس بھیجا ہے وہ عین قانون کے مطابق ہے ۔ پنجاب بار کونسل اور وکلائایکشن کمیٹی نے پاکستان بار کونسل کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے ریفرنس کا آئین اور قانون کے مطابق جلد از جلد میرٹ پر فیصلہ کرنیکا مطالبہ کیا ۔کنونشن میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد ، ڈسٹرکٹ بار سرگودھا ، منڈی بہاؤالدین ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد ، ایبٹ آباد ، مانسہرہ اور بلوچستان کے وکلاکے نمائندے موجود تھے ۔ پنجاب بار کونسل وکلا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں شخصیات کے بجائے ادارے کو دیکھنا چاہئے ۔ ہمارا مقصد بے لاگ احتساب ہے ، آئین ججز کے احتساب کا فورم مہیا کرتا ہے ۔ آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کا احتساب ہو سکتا ہے اور آئین کے مطابق معاملہ چل رہا ہے ،ہم احتساب پر یقین رکھتے ہیں ۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف الزامات سے سب آگاہ ہیں ، اگر الزامات درست نہیں ہونگے تو ریفرنس خود بخود ختم ہو جائیگا۔ ریفرنس کی سماعت سے پہلے ہی احتجاج کی کالیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ پنجاب بار کونسل اور وکلائایکشن کمیٹی کے اجلاس میں رکن پاکستان بار کونسل شفیق بھنڈارا نے متفقہ قراردادپیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کسی دباؤ میں آئے بغیر آئین اور قانون کے مطابق دائر شدہ ریفرنس کا فیصلہ کرے تاکہ آئین اور قانون کی بالا دستی ہوسکے ۔ وفاقی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے مستعفی ہونے کے مطالبہ کی پر زور مذمت کرتے ہیں ۔ دلیل کا تقاضا ہے کہ ایک ریفرنس جج صاحب کیخلاف آیا ہے تو انہیں اسکا سامنا کرنا چاہئے ۔ سابق وائس چیئرمین پاکستان بارکونسل رمضان چودھری نے کہا کہ عدلیہ کیساتھ ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کو اپنا کام کرنا چاہئے ،جج صاحب سے اپیل ہے جب تک آپ کیخلاف ریفرنس چل رہا ہے آپ اپنے عہدے سے ہٹ جائیں ۔ سپریم کورٹ بارکے صدر سے اپیل کرتے ہیں کہ ذاتی فیصلے نہ کریں ، ہم کسی سیاسی جماعت کے آلہ کار ہیں نہ بنیں گے ۔ اس موقع پر سابق ممبر پنجاب بار کونسل رائے بشیر احمد کھرل نے کہا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ فوج نے بھی اپنے اندر احتساب کا نظام جاری رکھا ہوا ہے ،ہم وکلاء کیخلاف شکایت ہوتی ہے تو اس پر ایکشن ہوتا ہے ، وکلاکے لائسنس بھی معطل ہوتے ہیں، ججز کا بھی احتساب ہونا چاہئے ۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈسٹرکٹ بار سرگودھا واصف بھٹی نے کہا کہ ہم عدالتوں میں آگ لگانے کے اعلان سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں۔ پاک فوج ہمارے ماتھے کا جھومرہے ،ہم کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے جو فوج کیخلاف ہو۔ اس موقع پر وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل انور منصور خان کی رکنیت معطل کئے جانے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے سرگودھا بار کونسل کے صدر واصف بھٹی نے دونوں کو اپنی بار میں رکنیت دینے کا اعلان کیا ۔ اسی طرح منڈی بہاؤالدین بار کے صدر پرویز راجہ نے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کو اپنی بار میں لائف ٹائم اعزازی رکنیت دینے کا اعلان کیا۔کنونشن میں شریک وکلا نے ہاتھ اٹھا کر قرار داد منظور کی، قرارداد کا عنوان تھا کہ احتساب سے کوئی مبرا نہیں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب بار کونسل کے رہنما عمران منج نے کہا کہ اگرآپ کے ہاتھ صاف ہیں توجاکرصفائی پیش کریں، ابھی صرف پنجاب بارکا اجلاس ہوا، جب پورے پاکستان کا اجلاس ہوگا اسلام آبادبھرجائیگا، اگر جج آپ کوبیگناہ لگتے ہیں تو انہیں باعزت بری کریں۔ وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم کا لائسنس اور رکنیت منسوخ کرنے کا اقدام غلط ہے ۔ یہ وکلا بچاؤتحریک ہے جج بچاؤ تحریک نہیں۔