سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک کا اجلاس وزارت منصوبہ بندی کی بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار سے سی پیک کے تحت سماجی اقتصادی ترقی کے 16 فاسٹ ٹریک منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ طلب کرنے کے ساتھ ساتھ چینی سفیر کو بھی مد عو کر نے کا فیصلہ

اسلام آباد:سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک نے چینی سفیر یا ؤ جنگ کو مد عو کر نے کا فیصلہ کر لیا،جبکہ وزارت منصوبہ بندی وترقی سے سی پیک کے تحت سماجی اقتصادی ترقی کے 16 فاسٹ ٹریک منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ طلب کرلی،چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر شیری رحمان نے وزارت منصوبہ بندی وترقی کی بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا،وزارت منصوبہ بندی وترقی حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ سی پیک منصوبوں کی ٹوٹل لاگت49ارب ڈالر ہے،توانائی کے(آئی پی پی فنانسنگ موڈ) کے پائپ لائن منصوبوں کی لاگت 11523 ملین ڈالر،ریلوے کے مین لائن ون کے پائپ لائن منصوبے کی لاگت 8 ارب ڈالر ہے،حویلیاں،تھاکوٹ سیکشن کی لاگت 1315 ملین ڈالر،کراچی پشاور موٹر وے کے ملتان سکھر سیکشن کی لاگت 2889ملین ڈالر جبکہ اورنج لائن منصوبے کی لاگت 1626 ملین ڈالر ہے۔سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں سی پیک کی فنانسنگ اور قرضوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،شیری رحمان نے کہا کہ میں نے سوال بھیجے تھے کہ منصوبوں کی فنانسنگ اور قرضوں پر ابہام ہیں، میں نے چینی سفیر سے ملاقات کی،چین کی حکومت پاکستان کو انٹرسٹ فری قرضے دینے کے لئے تیار ہے،سی پیک منصوبہ جات پر ایک اتھارٹی ہونی چاہئے،سی پیک قرضوں سے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں سوالات ہیں، شیری رحمان نے کہا کہ کمیٹی ایک اجلاس چینی سفیر کے ساتھ بھی کرے گی،سیکرٹری منصوبہ بندی وترقی نے کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک منصوبوں کی ٹوٹل لاگت 49661 ملین ڈالر ہے،توانائی کے(آئی پی پی فنانسنگ موڈ) کے پائپ لائن منصوبوں کی لاگت 11523 ملین ڈالر ہے،ریلوے کے مین لائن ون کے پائپ لائن منصوبے کی لاگت 8250 ملین ڈالر ہے،گوادر کے چھ پائپ لائن منصوبوں کی لاگت 357 ملین ڈالر ہے،گوادر میں گرانٹ کے منصوبے ہیں،حویلیاں،تھاکوٹ سیکشن کی لاگت 1315 ملین ڈالر ہے،کراچی پشاور موٹر وے کے ملتان سکھر سیکشن کی لاگت 2889ملین ڈالر ہے،جبکہ اورنج لائن منصوبے کی لاگت 1626 ملین ڈالر ہے،وزیر برائے منصوبہ بندی وترقی خسرو بختیار نے کہا کہ گوادر میں بجلی ہو گی تو صنعتیں لگیں گی،300 میگاواٹ کا منصوبہ 2015 کا ہے،سیکرٹری منصوبہ بندی وترقی نے کہا کہ گوادر کے ایسٹ بے منصوبے کی لاگت 140 ملین ڈالر ہے،وزیر منصوبہ بندی وترقی خسرو بختیار نے کہا کہ ہم نے 80 فیصد جاری منصوبوں کو اس سال پیسہ دیا ہے،نئے منصوبوں کی شکل میں سب سے زیادہ حصہ بلوچستان کو دیا ہے،بلوچستان کو سب سے زیادہ ہم نے اہمیت دی ہے،وزارت منصوبہ بندی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک کے تحت سماجی اقتصادی ترقی کے فاسٹ ٹریک منصوبوں کی فہرست میں 16 منصوبے شامل ہیں جن پر تقریبا 2سو سے تین سو ملین ڈالر خرچ ہوں گے،سینیٹر شیری رحمان نے استفسار کیا کہ کیا ان منصوبوں کے حوالے سے صوبوں سے بات ہوئی،وزارت حکام نے بتایا کہ ہم نے صوبوں کو خط لکھ دیا ہے،ہر صوبے میں سی پیک سیل بنا ہوا ہے، یہ منصوبے ایک سال میں مکمل ہونے ہیں جب کہ ٹوٹل 37 منصوبے ہیں،شیری رحمان نے وزارت حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ مذاق نہ کریں کہ خط بھیج دیا ہے،ہمیں وہ تمام خطوط بھیجیں جو صوبوں کو لکھے ہیں،ہمیں آئندہ اجلاس میں ان 16 منصوبوں پر بریفنگ دیں،کمیٹی نے معاملے پر صوبائی حکام کو بھی طلب کر لیا،اس موقع پر سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ڈی آئی خان،ژوب،کوئٹہ سیکشن کے لیئے ایک
روپیہ نہیں دیا گیا،ہمارے ساتھ تعصب ہوا ہے،پیسہ کم ترقی یافتہ علاقوں پر خرچ ہونا چاہیئے،بلوچستان کو پہلے پانی کی ضرورت ہے، وزارت حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک کے تحت 68382 ملازمین کام کر رہے ہیں،توانائی کے منصوبوں میں ٹوٹل 18751 ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں سے12314 پاکستانی اور 6437 چینی ملازمین ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں ٹوٹل 49631 ملازمین کام کر رہے ہیں جن میں سے 39880 پاکستانی اور 10671 چینی ملازمین ہیں۔