
اسلام آباد:پاکستان میں چین کے ڈپٹی چیف آف مشن ژاؤ لی جیان نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو گی،پاکستان اور چین کے درمیان فری ٹریڈ کا معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت چین پاکستان کو 90 فیصد مارکیٹ شیئر بلا معاوضہ دے گا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جس کے ساتھ چین نے سب سے پہلے فری ٹریڈ معاہدہ کیا۔ پاکستانی سرمایہ کاروں کو فری ٹریڈ معاہدے سے استفادہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو گی جبکہ اس حوالے سے تمام معلومات انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاک اقتصادی راہداری کے 22 منصوبوں میں سے 11 مکمل ہوچکے ہیں جبکہ بقیہ 11 زیر تعمیر ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری ایک خطہ ایک شاہراہ اقدام کا اہم ترین منصوبہ ہے اور چین کی حکومت اسے بہترین نمونے کے طور پر پیش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت مختصر عرصے میں بڑی تعداد میں منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ سال میں سی پیک کے تحت گیارہ منصوبے مکمل کئے گئے ہیں جبکہ دیگر گیارہ زیر تکمیل ہیں اس کے علاوہ متعدد منصوبے زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی چار ترجیحات ہیں جن میں بجلی گھر، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، گوادر بندرگاہ کی جدت اور صنعتی ترقی شامل ہے۔ ژاؤ لی چیان نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ پانچ سال میں بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے مسائل حل کرنے کے ساتھ صنعتی ترقی کی بنیاد رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں پاکستان میں مزید صنعتی ترقی پر غور کیا جارہا ہے۔ سفیر نے کہا کہ پاکستان بھر میں خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے کے لئے 9 علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رشہ کئی، قائداعظم صنعتی پارک اور دھابیجی اقتصادی زون ترجیحا بنائے جائیں گے۔



