
نواز شریف اس وقت لاہور کے سروسز اسپتال میں داخل ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے خون میں پلیٹلیٹ کا علاج جاری ہےڈاکٹروں نے پلیٹلیٹ کی مقدار بڑھانے کی ادویات دینے کے بعد گزشتہ روز میاں نواز شریف کا ٹیسٹ کیا تھا۔ اس دوران ڈاکٹر اور میاں نواز شریف کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جسے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے ٹوئٹر پر بھی شیئر کیا ہے۔
جب نواز شریف نے ڈاکٹروں سے اپنی بلڈ پلیٹلیٹ رپورٹ کا پوچھا کہ کب آئے گی تو ڈاکٹرز نے کہا سر کاونٹ کر رہے ہیں رزلٹ رات دیر سے آئے گا۔ نواز شریف نے جواباً کہا کہ کیا یہ بلڈ ٹیسٹ کا رزلٹ ہے یا الیکشن کا نتیجہ جو رات گئے آئے گا- یہ سن کر وہاں موجود لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی
احسن اقبال کے مطابق ’جب نواز شریف نے ڈاکٹروں سے اپنی بلڈ پلیٹلیٹ رپورٹ کا پوچھا کہ کب آئے گی تو ڈاکٹرز نے کہا سر کاونٹ کر رہے ہیں، رزلٹ رات دیر سے آئے گا۔ نواز شریف نے جواباً کہا کہ کیا یہ بلڈ ٹیسٹ کا رزلٹ ہے یا الیکشن کا نتیجہ جو رات گئے آئے گا- یہ سن کر وہاں موجود لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ آگئی۔‘
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ’الیکشن نتائج میں تاخیر‘ کو اپوزیشن جماعتیں دھاندلی کا حصہ قرار دیتی رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے کا 2018 کے عام انتخابات کے بارے میں کہنا ہے کہ نتائج روک کر رات گئے یا اگلے روز اس میں تبدیلی کرکے ’پولیٹیکل انجنیئرنگ‘ کی گئی ہے۔
پلٹلیٹ خون میں شامل ایک خلیہ نما عنصر ہے جو بون میرو میں تیار ہوتا اور خون کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگر پلیٹلیٹ کی مقدار 20 ہزار سے کم ہوجائے تو مریض کو ناک سے خون آنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔




