
اسلام آباد(سپورٹس رپورٹر) نیپال میں ہونے والی سیف گیمز میں کراٹے میں ایک گولڈ اور ایک سلور میڈل جیتنے والی کلثوم ہزارہ حکومتی رویے سے دلبرداشتہ۔17 سال سے نیشنل چیمپئن کلثوم ہزارہ نے” ڈیلی سی پیک ” سے انٹرویو میں کہا کہ 16 سال سے کراٹے کی نیشنل چیمپئن ہونے سمیت سائوتھ ایشین گیمز میں 4 گولڈ میڈل جیت چکی ہوں مگر حکومت نے کوئی تعاون نہیں کیا نہ کوئی کیش ایوارڈ دیا گیا اور نہ ہی کوئی پزیرائی دی گئی۔انھوں نے کہا کہ میں سندھ میں رہتی ہوں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سندھ میں کوئی کھیل کا وزیر ہی موجود نہیں ہے کسی نے مبارکباد دینا بھی گوارا نہیں کیا پاکستان کا نام دنیا میں روشن کرنے والے کھلاڑیوں سے امتیازی سلوک کیا جا رہاہے میں نے مشکل حالات میں محنت سے مقام حاصل کیا ہے ۔بچپن میں کراٹے کی ٹریننگ کے دوران لڑکے تنگ کرتے تھے مگر میں نے ان کی پرواہ نہیں کی اور اپنا مشن جاری رکھا۔ کلثوم ہزارہ نے کہا کہ کراٹے کے کھیل کو اولمپک میں شامل کر لیا گیا ہے حکومت کوالیفائنگ رائونڈ کھیلنے کا موقع فراہم کرے اور سرپرستی کرے تو اولمپک میں بھی گولڈ میڈل جیت سکتی ہوں میرا مقصد پاکستان کے لئے اولمپک میڈل ہے جو حکومتی سرپرستی کی بدولت ہی ممکن ہو سکتا یے ۔کلثوم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان خود بھی کھلاڑی رہے ہیں انھیں کھلاڑیوں کے مسائل کا ادراک ہونا چاہئے اور بین الاقوامی مقابلوں میں میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کی مدد کرنی چاہئے تاکہ وہ ملک کا نام روشن کر سکیں۔




