دنیا نے کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کا نوٹس نہ لیا اور ہندوستان کی طرف سے ڈومیسائل کے نئے کالے قانون کے نفاذ کے بعد جاری کھیل کو نہ روکا جس کے تحت وہ کشمیر کی موجودہ آبادی کے تناسب کویکسر تبدیل کر کے اسے ہندو ریاست میں بدلنا چاہتا ہے تو پھر بعد میں کشمیریوں کے ہاتھ کچھ بھی نہیں بچے گا اور نہ ہی اُن کے دکھوں کا مداوا اور اُن کے جائز حق خودارادیت کا کوئی کارآمد نتیجہ نکلے گا صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود کابین البراعظمی اور بین الاقوامی کشمیر ورچوئیل اتحاد کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اگر دنیا نے کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کا نوٹس نہ لیا اور ہندوستان کی طرف سے ڈومیسائل کے نئے کالے قانون کے نفاذ کے بعد جاری کھیل کو نہ روکا جس کے تحت وہ کشمیر کی موجودہ آبادی کے تناسب کویکسر تبدیل کر کے اسے ہندو ریاست میں بدلنا چاہتا ہے تو پھر بعد میں کشمیریوں کے ہاتھ کچھ بھی نہیں بچے گا اور نہ ہی اُن کے دکھوں کا مداوا اور اُن کے جائز حق خودارادیت کا کوئی کارآمد نتیجہ نکلے گا۔ان خیالات کا اظہار صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے بین البراعظمی اور بین الاقوامی کشمیر ورچوئیل اتحاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کا انعقاد پاکستان گلوبل اینڈ سپریم کونسل نے کیا، اس عالمی کانفرنس کا مقصد تمام جماعتوں اور تنظیموں کو ایک چھتری اور ایک پلیٹ فارم کے سائے تلے ایک منظم ،مربوط اورمشترکہ سٹرٹیجی کے ذریعے کشمیر کاز کو آگے بڑھانا اور اسے عالمی سطح پر اُجاگر کرناہے۔سردار مسعود نے کہا چونکہ ہندوستان بڑی تیزی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے راستے پر گامزن ہے وہ ہندوستان بھر سے انتہاء پسند ہندوئوں کو کشمیر میں لاکر آباد کر رہا ہے اوروہ ہٹلر کے نیورم برگ قوانین کی طرز پر ویسا ہی کھیل کشمیر میں کھیل رہا ہے جو جرمنی میں یہودیوں کے خلاف ہٹلر نے کھیلا تھا۔ لہذا یہ وقت ہے کہ دنیا ہندوستان کو ان گھنائونے اقدامات سے روکے اور اس کے خلاف BDSمہم کا آغاز کرے۔ مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک نے ہندوستان کا نان حلال گوشت درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جو اچھا آغاز ہے۔ پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن ہمارا اثاثہ اور طاقت ہیں جو ہر حال میں کشمیر کاز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی اور یورپین ممبران پارلیمنٹ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لئے زبردست کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان گلوبل اور سپریم کونسل کے چیئرمین راجہ سکندر خان اور اس کے صدر کالا خان کوکامیاب بین الاقوامی ورچوئیل کشمیراتحاد کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ دوہرے لاک ڈائون کا شکار ہیں۔ ہندوستان نے پہلے پانچ اگست 2019کو اپنے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے ذریعے آرٹیکل 370اور 35-Aکو منسوخ کرتے ہوئے کشمیر کو دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کیااور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا نفاذ کر دیا۔ لوگوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ، اُن سے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات چھین لی گئیں، ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے ہندوستان کی مختلف جیلوں میں ڈال دیا گیا، پیلٹ گن کا استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کو حتیٰ کے بچوں کو بھی بینائی سے محروم کر دیا گیا ، گھر گھر تلاشی کے بہانے خواتین کی آبرو ریزی روز مرہ کا معمول بنا دیا گیا ہے۔ الغرض پورے مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک قید زنداں میں بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ جب سے COVID-19کی وباء نے جنم لیا ہے کشمیریوں پر دوہرا لاک ڈائوں کا نفاذ کر دیا گیا لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ کشمیریوں کوکرونا وائرس سے بچانے کے لئے ہندوستانی حکومت کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہی چونکہ وہ کشمیریوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، انہیں ماسکس، حفاظی کٹس اور سنیٹائزرز فراہم نہیں کیے جا رہے جس کی بدولت خطرہ ہے کہ کشمیر COVID-19کاہاٹ سپاٹ بن جائے گا۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ 2اپریل 2020کو ڈومیسائل کے جس کالے قانون کا ہندوستان نے نفاذ کیا ہے وہ انتہائی خطرناک اقدام ہے جو کشمیریوں سے اُن کی زمین، شہریت اور ملازمتیں چھین لے گا اور انہیں اقلیت میں تبدیل کر کے رکھ دے گایہ ہندوستانی اقدامات عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں، آئی سی سی قوانین اور فورتھ جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ اس کالے قانون کے خلاف او آئی سی نے تو آواز اُٹھائی اور اس کی مذمت کی ہے لیکن باقی دنیا اس پر خاموش ہے جو قابل افسوس امر ہے۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان کے توسیع پسندانہ، جارح اور فاشسٹ اقدامات سے اُس کے تمام پڑوسی ممالک چاہے وہ نیپا ل ہو ، سری لنکا ہو، چین ہو یا پاکستان و آزادکشمیر اور گلگت بلتستان متاثر ہو رہے ہیں۔ صدر نے کہا کہ بھارتی حکومت کے وزراء اور اُس کی فوج کے کمانڈر آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ابھی لداخ میں چین کے ساتھ بھی ہندوستانی فوج نے تنائو کا ماحول پیداکیا ہوا ہے۔ صدر مسعود نے کہا کہ ابھی حال ہی میں یورپین پارلیمنٹ کے 650سے زائد ممبران نے اپنی چھ سے زائد قراردادیںمنظور کیں جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی گئی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کی گئی ہے اور بھارتی حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے حالیہ غیر قانونی اقدامات کو واپس لے اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حل کروائے۔ انہوںنے کہا کہ پندر سے زائد یورپی ممبران پارلیمنٹ نے یورپین کمیشن کے صدر کو ایک خط لکھا ہے جس پر اُن کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کی طرف دلوائی گئی ہے۔ صدر مسعود نے کہا کہ اسی طرح برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے اور بالخصوص APPKGبرطانیہ نے برطانوی ایوانوں میں مسئلہ کشمیر کو اٹھایا ہے ۔ صدر نے کہاکہ وہ یہ چاہیں گے کہ برطانوی ممبران پارلیمنٹ دوبارہ اس مسئلے کو برطانوی ایوان میں اٹھائیں اور برطانوی حکومت اور وزیراعظم بورس جانسن کوقائل کریں کہ وہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے نہ صرف سلامتی کونسل کا اجلاس کشمیر کے مسئلے پر طلب کروائیں بلکہ ہندوستانی حکومت کے ساتھ بھی اس سلسلے میں بات چیت کریں۔ صدر مسعود خان نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی طرف سے دو رپورٹیں بھی جاری ہوئی ہیں جن میں مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کردار مایوس کن ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر موثر طریقے سے اجاگر کرنے کے لئے ہمیں ایک منظم اور مربوط انفارمیشن ایکو سسٹم ڈویلپ کرنے کی ضرورت ہے اور کشمیر پر اپنے بیانیے کو جدید ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیا کااستعمال کرتے ہوئے اُجاگر کرنا ہو گا ۔ نیز بین الاقوامی اخبارات و جرائد (واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز،گارڈین)وغیرہ میں مسئلہ کشمیراور اس کے حل کے سلسلے میںآرٹیکلز لکھے جانے چاہیے اور مختلف آڈیو اور ویڈیوز کے ذریعے ہندوستان کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دنیا کے سامنے موثر طریقے سے آشکار کرنا ہو گا۔صدر آزادکشمیر نے مزید کہا کہ ہمیں دنیا کی نامور جامعات کے طلبا و طالبات اور نوجوان، برطانوی و یورپی کونسلرز کو مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں Engageکرنا ہو گا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ اگرچہ ہندوستان مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان کو معاشی اور دیگر اعتبار سے غیر مستحکم کر نے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ اس کے باوجود ہم ہندوستان کے ساتھ مذاکرات، مصالحت اور کسی بھی بین الاقوامی ثالثی کے عمل میں جس میں کشمیری بطور فریق شریک ہوں بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے ہندوستان کی طرف سے عائد کردہ اس الزام کہ آزادکشمیر میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپس موجود ہیں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ بطور صدر آزادکشمیر یہ کہہ رہے ہیں کہ آزادکشمیر میں ایساکوئی ٹریننگ کیمپ موجود نہیں اور ہمارے دروازے دنیا کے کے لئے کھلے ہیں وہ خود آکر اسے چیک کر سکتے ہیں۔ صدر نے مزید کہا کہ آزادکشمیر میں لوگوں کو مکمل بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں جہاں کوئی جعلی پولیس مقابلے نہیں ہوتے اور نہ ماورائے عدالت قتل ہوتے ہیں۔ یہاں جنسی تشدد کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جاتا اور یہاں میڈیا پر بھی کوئی قد غن نہیں۔ لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں اور لوگ جمہوری طریقے سے اپنی حکومت کا انتخاب کرتے ہیں۔ صدر نے اپنے خطاب کے آخر میں برطانیہ اور دنیا بھر میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن کی کرونا وائرس کی بدولت ہلاکتوں پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ کانفرنس میں برطانیہ، امریکہ، کنیڈا، ڈنمارک، سپین، سائوتھ افریقہ ، بیلجیئم ، فرانس، اٹلی، جاپان، ملائشیا،قطر، پاکستان اور آزادکشمیر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، سینیٹر راجہ ظفر الحق اور سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم ، برطانیہ میں تعینات پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد ایوب ، برطانوی ممبران پارلیمنٹ و شیڈو وزرائ، ایم پی افضل خان، خالد محمود ایم پی ، یاسمین قریشی ایم پی ، محمد یاسین ایم پی، طاہر علی ایم پی، لارڈ نذیر احمد، نورین فاروق ابراہیم ممبر قومی اسمبلی و ممبر کشمیر کمیٹی، چوہدری طارق فاروق سینئر وزیر آزادحکومت، چوہدری محمد سعید سابق وزیر آزادکشمیر، عبد الرشید ترابی چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی آزادکشمیر، چوہدری پرویز اشرف سابق وزیر آزادحکومت، راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ، آفتاب احمد بھٹ چیئرمین جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ، غلام محمد صفی کنونیئر تحریک حریت جموں وکشمیر، سید فیض احمد نقشبندی، کنونیئر حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ،آغا تنویرصدر GPKSCسیاسی امور، راجہ سلطان صدر GPKSCلندن، عبد الحمیدلونAPHC، ماریہ اقبال ترانہ،سید شبیر احمدصدر GPKSCآزادکشمیر، ڈاکٹر خالد محمود امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر، جاوید راٹھور چیئرمین کشمیر سالڈیریٹی کونسل نارتھ امریکہ، غزالہ حبیب چیئرپرسن فرینڈز آف کشمیر انٹرنیشنل، ڈاکٹر غلام نبی میر صدر ورلڈ کشمیر آگاہی فورم امریکہ، ڈاکٹر فرحان مجاہد چک سیکرٹری جنرل کشمیر CIVITASکنیڈا، علی رضا سید چیئرمین کشمیر کونسل یورپ (بیلجیئم) ،سردار علی شاہ نوازخان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سکینڈی نیوین کونسل، ممتاز حسین فنانشل ڈیلی انٹرنیشنل (اٹلی)، محمد غالب صدر تحریک کشمیر یورپ، راجہ حنیف MBEسکاٹ لینڈ، سلمان خان چیئرمین کشمیر گروپ افریقہ، راجہ سونیNIDAسپین، شاہد مجید (جاپان)، رانا اطہر جاوید ڈائریکٹر جنرل پاکستان ہائوس ڈنمارک، ڈاکٹر احمد جاوید صدر تحریک کشمیر قطر، چوہدری طارق محمود چیئرمین پاکستان پیٹریاٹک فرنٹ برطانیہ، ڈاکٹر غلام نبی فائی ڈائریکٹر کشمیر امریکن کونسل، نعیم چوہدری صدر کشمیر فورم فرانس، ڈاکٹر مبین شاہ(ملائشیا) اور مرتضیٰ شاہ بیورو چیف جنگ وجیو برطانیہ و یورپ نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے برطانوی ممبران پارلیمنٹ اور تارکین وطن کو کشمیر کاز کے لئے زبردست کام کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور انہوں نے مودی سرکار کی طرف سے حالیہ حماقت امیز اقدامات کی شدید مذمت کی اور برطانوی ممبران پارلیمان سے گزارش کی کہ وہ برطانوی پارلیمان میں مسئلہ کشمیرکو زیر بحث لائیں۔ کانفرنس کے نام اپنے تحریری بیان میں راجہ ظفر الحق نے کہا کہ کشمیری عوام ہندوستانی جبر و استبداد کا بڑی بہادری کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں اور پاکستانی عوام و تارکین وطن اُن کی پشت پر کھڑے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ ہمیں اپنی پارلیمانی وفود کے ذریعے اور خود وزیر اعظم کو دنیا کے ممالک کا دورہ کر کے کشمیر پر لابی کرنی چاہیے۔ کانفرنس سے اپنے خطاب میں ایم پی افضل سمیت دیگر برطانوی ممبران پارلیمنٹ نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوںاور حالیہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہندوستانی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی اور کہا کہ اس مسئلے کو ہمیشہ برطانوی پارلیمان میں اٹھاتے رہیں گے تاوقتیکہ یہ مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ اس کانفرنس کا انعقاد راجہ سکندر خان اور کالا خان نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔