کرونا کے بڑھتے کیسز کے معاملے پر ذوالفقار بخاری اور سینیٹر شیری رحمان کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوگئی

ملک میں کرونا کے بڑھتے کیسز کے معاملے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز ذوالفقار بخاری اور پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ شیری رحمان کا موقف ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی وجہ سے ملک میں کورونا وائرس پھیلا ہے جبکہ زلفی بخاری اس کی تردید کرتے ہیں۔شیری رحمان نے ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا کہ بیرون ملک سے آنے والے شہریوں کے کورونا ٹیسٹ بھی نہیں کیے جارہے اور ملک میں 21 فیصد کورونا کے کیسز کا تعلق بیرون ملک سے آنے والے افراد سے ہے۔شیری رحمان کے ٹوئٹ کے جواب میں معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز ذوالفقار بخاری نے گزشتہ رات آنے والے مسافروں کی ٹیسٹنگ کی تصاویرٹوئٹ کردیں۔ذوالفقار بخاری کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی اپنی غلطیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے قوم سے مسلسل جھوٹ بول رہی ہے، پیپلزپارٹی جھوٹ بولنا بند کرکے سندھ کے عوام پر توجہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوورسیزپاکستانیوں کو کورونا کے پھیلا کا ذمہ دار قراردینا بند کیا جائے، صرف 6 فیصد کیسز کا تعلق بیرون ملک سے آنے والے افراد سے ہے۔شیری رحمان نے اپنے جواب میں کہا کہ انہوں نے کوئی غلط خبر نہیں پھیلائی، انہوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی سے کہا کہ وہ ان تصاویر کو چیک کریں کہ وہ کہیں پرانی تو نہیں ہیں۔یاد رہے کہ ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 3 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ 2067 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔