ریفرنس دائر کرنے والوں کیخلاف سخت فیصلہ آنا چاہئے تھا، ماہر قانون

جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر قانون بابر ستار نے کہا ہے کہ غلط طریقے سے ریفرنس دائر کرنے والوں کیخلاف سخت فیصلہ آنا چاہئے تھا۔

فروغ نسیم کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں عدالت کا مختصر فیصلہ بہت ہی مختصر ہے، صدر کا ریفرنس کالعدم قرار دیدیا گیا مگر مختصر فیصلے میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی،عدالت نے صدر کی بات پر دھیان نہیں دیا لیکن ایف بی آر کے کمشنر کی بات پر دھیان دیا جائے گا، صدر سپریم جوڈیشل کونسل کو کوئی ریفرنس بھیجے تووہ اس کی تحقیقات کرنے کی پابند ہے۔

ماہر ٹیکس امور ا شفاق تولا نے کہا کہ اگر یہ معاملہ اپیل تک گیا تو طول پکڑسکتا ہے، سابق وزیرخزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ پچھلے ایک مہینے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں دو ارب ڈالر کی نمایاں کمی آئی ہے۔ماہر قانون بابرستار نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس وِچ ہنٹ تھا۔

ایک آزاد اور خودمختار ذہن کے جج نے کچھ سخت فیصلے کیے، اس کے بعد پی ٹی آئی اورا یم کیو ایم نے اس جج کو ہٹانے کیلئے ریویو فائل کیا، پھر اچانک ڈوگر صاحب آگئے انہیں معلوم نہیں کیسے پتا چلا کہ لندن میں جج صاحب کی اہلیہ کی جائیدادیں ہیں، اس پر کس طرح تحقیقات کی گئی اور کس نے اس کی اجازت دی یہ بدنیتی کی بات تھی۔

ہمارے ہاں ایک سسٹم ہے جس میں لوگوں کی جاسوسی کرکے ان کیخلاف مواد جمع کیا جاتا اور پھرمیڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے، اگر کسی پبلک آفس ہولڈر کی کوئی بات پسند نہیں آئے تو اس کیخلاف مہم چلائی جاتی ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف بھی ایسا ہی مقدمہ بنایا گیا جسے سپریم کورٹ نے کالعدم کرکے ٹھیک کیا ہے۔

بابر ستار کا کہنا تھا کہ عدالت کے مختصر حکم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ ایسسٹ ریکوری یونٹ کے پاس ججوں کی جاسوسی کا کیا اختیار تھا، اسی طرح وزیر قانون نے جج کی اہلیہ اوربچوں کو نوٹس دیئے بغیر کیسے ریفرنس دائر کرنے کی تجویزدیدی۔

عدالت نے جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس کالعدم قرار دیدیا ہے تو اس کے consequences بھی ہونے چاہئیں،ہماری عدلیہ کی تاریک تاریخ ہے جس میں عدلیہ نے آمروں کوjustify کیا، یہ ضروری ہے کہ ہماری عدلیہ خودمختار ہو اس کے ساتھ ججوں کا احتساب بھی ضروری ہے۔