سونامی بد ترین ناکامی اور بد نامی کی جانب گامزن ہے،رانا ثناء اللہ

تنخواہیں اور پنشن میں آپ نے کوئی اضافہ نہیں کیا، پھر بھی وزارت داخلہ کے بجٹ میں 13 فیصد اضافہ کیوں؟
معلوم نہیں مافیا حکومت میں ہے یا حکومت مافیا کی ہے ،آٹا مافیا، گندم مافیا اور چینی مافیا نے اربوں روپے کے ڈاکے مارے

 

 

اسلام آباد:مسلم لیگ(ن)کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ سونامی براستہ بد ترین ناکامی اور بد نامی کی جانب گامزن ہے،معلوم نہیں مافیا حکومت میں ہے یا حکومت مافیا کی ہے ،آٹا مافیا، گندم مافیا اور چینی مافیا نے اربوں روپے کے ڈاکے مارے،ملک میںڈکیتی پہ ڈکیتی ہورہی ہے ،گندم ،تیل، ادویات سب پر ڈاکے ڈالے گئے ،کہاں تھے خفیہ ادارے ؟خفیہ اداروں کو ان مافیاز کی بجائے سیاستدانوں کے پیچھے لگایا ہوا ہے ،پیٹرول کی قیمت میں ہوشر بااضافہ تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہے، حکومت نے پیٹرول مافیا کے ساتھ ملکر عام آدمی کی جیب سے ڈکیتی کی،حکومت نے پی آئی اے کو دنیا کے سامنے بد نام کر دیا، صرف اس لیے کہ ن لیگ اور پی پی کو بدنام کیا جا سکے ، دنیا کے سامنے پی آئی اے بالکل ختم ہو چکا ۔ہفتہ کو قومی اسمبلی میں وزارت داخلہ کے مطالبات زر پر کٹوتی کی تحاریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ماتحت کئی ادارے ہیں ،ان اداروں میں ایف آئی اے اور آئی بی بھی شامل ہیں،ہم نے اپنی آخری بجٹ میں ان کیلئے109 ارب رکھے ,گذشتہ بجٹ میں ایک سو انتالیس ارب روپے رکھے گئے،اس بجٹ میں ایک سو ستاون ارب رکھے گئے ہیں،جب آپ نے کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا تو اس وزارت کے بجٹ میں اضافہ کیوں؟،تنخواہیں اور پنشن میں آپ نے کوئی اضافہ نہیں کیا، پھر بھی بجٹ میں تیرہ فیصد اضافہ کیوں؟یہ کھانچے ہوتے ہیں، کیونکہ یہ دیگر اخراجات کیلئے رکھے گئے ہیں،وزیراعظم آفس کے اخراجات دوہزار سترہ اٹھارہ میں اٹھانوے کروڑ تھے،بتایاگیا کہ اس وقت کھانچے ہی کھانچے تھے،وزیراعظم آفس کے اخراجات دوہزار اٹھارہ انیس میں ایک سو چھ ارب ہوگئے،آخری سال یہ اخراجات بڑھ کر ایک سو سترہ ارب ہوچکے،اب بتائے کہ کہاں سے وزیراعظم آفس کے اخراجات میں کمی کی گئی،انکی بنیاد جھوٹ ، پروپیگنڈا پر ہے،رات سے پوری دنیا بل بلا رہی ہے،لوگ کہ رہے ہیں کہ تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی ہوئی ہے،رکشے والے، ٹیکسی والے کی جیب پر ڈاکہ ڈالا گیا،حکومت نے پیٹرول مافیا کے ساتھ ملکر عام آدمی کی جیب سے ڈکیتی کی ہے ،حکومت نے پیٹرول سستا کیا لوگ رل گیے پیٹرول تلاش کرتے کرتے ،پیٹرول مافیا نے حکومت کو بلیک میل کیا،حکومت نے راتوں رات قیمت بڑھا کر غریب کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جو مافیا کی جیب میں جائیں گے ،حکومت کی ڈکیتی اربوں سے کم کی نہیں ہے،مافیا حکومت میں موجود ہے جس نے حکومت سے فیصلہ کرایا،کہا جاتا تھا کہ اپوزیشن ڈاکوؤں ہیں چور ہیں، آج بتایا جائے ڈکیتی گزشتہ رات کس نے ماری،ملک میںڈکیتی پہ ڈکیتی ہورہی ہے ،گندم ،تیل، ادویات سب پر ڈاکے ڈالے گئے کہاں تھے خفیہ ادارے ؟خفیہ اداروں کو ان مافیاز کی بجائے سیاستدانوں کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔مافیا جو ہے وہ اس وقت چھایا ہوا ہے ،سونامی براستہ بد ترین ناکامی اور بد نامی کی جانب گامزن ہے ۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب نے جب پریس کانفرنس کی تو اس کی ویڈیو سامنے آ گئی ،نیب کے چیئرمین کی ویڈیو کس نے بنائی آپ نے ،نیب کی ویڈیو کس نے چلوائی آپ نے ،اس کے شوہر کو کس نے رہا کرایا آپ نے،پبلک فنڈز کا ایمانداری سے استعمال کسی بھی پبلک آفس ہولڈر کی ذمہ داری
ہے،ایف آئی اے او آئی بی جیسے ادارے حکومت کو معلومات فراہم کرتے ہیں،ان ادراوں کے لیے گزشتہ بجٹ میں 28 فیصد اضافہ کیا گیا،کلاس فور کے ملازم اور پینشنز میں اضافہ نہیں کیا گیااس بجٹ میں 13 فیصد کا اضافہ کیوں کیا گیا یہ بتایا جائے؟آپ گنواتے ہیں کہ ہم کفایت شعاری مہم کر رہے ہیں پیسے بچا رہے ہیں،یہاں تو حکومت کے کھانچے لگ رہے ہیں،یہ کہتے ہیں پچھلی حکومت میں 4.16 ارب روپے کے کھانچے لگے،ان کی حکومت میں یہ کھانچے 10 ارب تک پہنچ گئے ہیں،وزیراعظم ہاوس کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ 98 کروڑ روپے کہاں خرچ ہوئے،اب اس کے لیے 1 ارب 17 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،علی زیدی کہتے کہ 6 گھنٹے اجلاس ہوئے صرف چائے بسکٹ دئیے گئے،کیا یہ 9 کروڑ 80 لاکھ کے چائے اور بسکٹ کھا جاتے ہیں،یہاں چور چور , ڈاکو ڈاکو کی گردان ہوتی رہی۔معلوم نہیں مافیا حکومت میں ہے یا حکومت مافیا کی ہے ،مافیا اس وقت حکومت کے اندر موجود ہے جس نے چینی کے بعد تیل میں اربوں کا ڈاکہ مارا ہے،آٹا مافیا، گندم مافیا اور چینی مافیا نے اربوں روپے کے ڈاکے مارے ۔انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی رپورٹ جو وزیر نے پیش کی وہ ابتدائی رپورٹ ہے ،مرحوم پائلٹ کو جس طرح ذمہ دار ٹھہرایا گیا وہ انتہائی نامناسب ہے ،وفاقی وزیر نے خود ہی پی آئی اے کو دنیا کے سامنے بد نام کر دیا صرف اس لیے کہ ن لیگ اور پی پی کو بدنام کیا جا سکے ۔،اب دنیا کے سامنے پی آئی اے بالکل ختم ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب اپ نے چھ ماہ تک میرا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیا، لیکن میں نے کبھی احتجاج نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ علی محمد خان نے کہا کہ سابق وزراء اعظم نے بیرون ملک دوروں پر کتنے اخراجات کئے،وزیر اعظم عمران خان نے ڈیواس میں اپنی اے ٹی ایم کا نام لیا کہ انھوں نے میرے دورے کے اخراجات دئیے،آپ قومی خزانہ سے خرچہ کر لیا کریں ، اے ٹی ایم سے خرچہ لینا بند کریں ،اے ٹی ایم نے ڈاکے ڈال کر لوگوں کو کنگال کر دیا ئے