درپیش مسائل کا بخوبی ادراک ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرانے کے لیے وزیر تعلیم شفقت محمود سمیت تمام متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی اویسی

اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے چیئرمین میاں نجیب الدین اویسی نے کہاہے کہ نجی تعلیمی ادارے ملک کی تعلیمی،سماجی و معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ شرح خواندگی میں اضافہ میں بھی حکومت کا ہاتھ بٹارہے ہیں،کورونا وباکے دوران انہیں درپیش مسائل کا بخوبی ادراک ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرانے کے لیے وزیر تعلیم شفقت محمود سمیت تمام متعلقہ فورمز پر آواز اٹھائی جائے گی، بدقسمتی سے پرائمری سے اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل،ووکیشنل اور میڈیکل کی تعلیم کو بھی شدید مسائل کا سامناہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجزایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، وفد کی قیادت مرکزی صدر ملک ابرار حسین کررہے تھے جبکہ سیکرٹری جنرل محمد اشرف ہراج،اسلام آباد سٹی کے صدرکرنل(ر)شاہد حمید،ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی کے ممبر اور آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجزایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویژن کے صدر عرفان مظفرکیانی،مرکزی نائب صدررانا سہیل احمد،چکلالہ کینٹ سے نائب صدر زاہد حسین،ایگزیکٹو ممبرمیڈم نسیم اختر اور نیلوفر ملک بھی ان کے ہمراہ موجود تھے،۔ نجیب الدین اویسی کاکہنا تھا کہ نجی تعلیمی ادارے ملک میں معیاری تعلیم کی فراہمی میں فعال کردارادا کررہے ہیں انہیں درپیش مسائل کا ادراک ہے اور اس کے حل کے لیے وزیر تعلیم سمیت متعلقہ حکام سے بات کریں گے،انہوں نے اس موقع پر ملک بھر سمیت بہاولپور ڈویژن کے تعلیمی مسائل کا بھی ذکر کیا، ہائرایجوکیشن کمیشن،جامعات اورمیڈیکل کالجز کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی جبکہ چیئرمین کمیٹی نے تمام مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ نجیب الدین اویسی سے ملاقات کے موقع پرآل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجزایسوسی ایشن کے وفدکا کہنا تھاکمیٹی چیئرمین ہونے کی حیثیت سے وہ اپنا کردار ادا کریں،وفد نے بتایا کہ سکولوں کی مسلسل بندش سے نجی تعلیمی ادارے تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں،عمارتوں کے کرائے ادا کرنا مشکل ہوچکاہے، تنخواہیں اور دیگر اخراجات کی ادائیگی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تیس فیصد تک چھوٹے تعلیمی ادارے جو ستائیس ہزار سے زائد ہیں،بند ہوچکے ہیں ہزاروں اساتذہ اور ملازمین بے روزگار ہیں پانچ ماہ سے گھرو ں میں بیٹھے قوم کے معمار سخت مشکلات کا شکار ہیں،کرائے نہ دینے پر کورٹ کچہری کے مسائل الگ سے پیدا ہوچکے ہیں،لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں اور مستقبل میں بھی کوئی مثبت امید نظر نہیں آرہی ہے، ایسے میں حکومت فوری طورپرپندرہ اگست سے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کرے،اس موقع پر وفد نے یہ بھی بتایاکہ اگر حکومت نے اعلان نہ کیا تو نجی تعلیمی ادارے ازخود کھولنے پر مجبور ہونگے ایسے میں حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔




