خیبر پختون خوا میں کرپشن کیسز پر کاروائی سے گریز،پشاور ہائی کورٹ نے چئیرمین نیب اور ڈی جی کے پی کے کو طلب کر لیا

نیب کو بلین ٹری منصوبہ،مالم جبہ ،بی آر ٹی ،احتساب کمیشن اور خیبر بینک سکینڈل سمیت دیگر دیگر اربوں کے کرپشن کے کیسز میں کوئی دلچسپی نہیں،کئی سالو ں سے کیسز سردخانے میں پڑے ہیں،وکیل درخواست گزار

 

پشاور: چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آئین و قانون کا حلف اٹھا رکھا ہے جس معاشرے میں انصاف کا قتل ہو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ،کوئی قانون سے بالاتر نہیں تمام فیصلے آئین و قانون کے مطابق کریں گے ۔یہ ریمارکس انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں مختلف کرپشن کیسز پر کارروائی نہ کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران دئیے۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔سماعت کے آغاز پر درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ نیب کو بلین ٹری منصوبہ،مالم جبہ ،بی آر ٹی ،احتساب کمیشن اور خیبر بینک سکینڈل سمیت دیگر دیگر اربوں کے کرپشن کے کیسز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔کرپشن یہ کیسز کئی سالوں سے سرد خانے میں پڑے ہوئے ہیں جبکہ نیب کو صرف اپوزیشن کیسز پر دلچسپی ہے ۔اس دوران چیف جسٹس جسٹس وقاراحمد سیٹھ نے ریمارکس دیئے کہ ایسی صورت حال پر تشویش ہے جس معاشرے میں انصاف کا قتل ہو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے ،تمام آئینی اداروں کو قانون کے مطابق چلنا چاہیے ،آئین وقانون کی حکمرانی سے ہی اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہیں،ہم نے آئین و قانون کا حلف اٹھا رکھا ہے ملک میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ۔بعد ازاں عدالت نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال اور ڈی جی نیب خیبر پتخونخواہ کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا اور مزید سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کر دی۔