اگر اشیاء مہنگی کر کے سپلائی ممکن بنانی ہے تو حکومتی رٹ کہاں ہے،عامر صدیقی

راولپنڈی:کرونا وباء کی شدت میں کمی مگر عوام کی مشکلات ہیں کہ بڑھتی ہی جا رہی ہیںابھی عوام کروناکے بعدکے حالات سے سنبھل نہ پائے اورمعاشی بحرانی کیفیت کا شکار ہیںانہیں مہنگائی اور بیروزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے ایسے میں حکومت نے مہنگائی بم گرا کر ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے ان خیالات کا اظہار صدر ترقی پسند فلا حی تنظیم محمد عامر صدیقی نے کیا۔ ایک بیان میں انہوںنے کہا کہ آج دو سال بعدبھی تبدیلی سرکار کے مہنگائی وارسے عوام ہوئے خوار ہورہے ہیں ۔ہوشرباء مہنگائی میں روز بروز اضافے نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے قیمتیںآسمانوں سے باتیں کر رہی ہیںسونامی سرکار بجلی اور ادویات کی قیمتوں میں بارہا اضافہ کر چکی،ایک بار پھر بجلی کی قیمتوںمیں ایک روپے باسٹھ پیسے اورادویات کی قیمتوں میں دوسو باسٹھ فیصدتک اضافہ ظلم و ناانصافی ہے عامر صدیقی نے کہا کہ حکومت سستی بجلی کی پیداوار کے لئے ہائیڈرو اورونڈ ،و دیگر ذرائع ،جبکہ سستی ادویات کے حصول کیلئے ملکی سطح پر خام مال تیار کر کے ملکی ادویہ ساز کمپنیوں کو دے تاکہ سستی اورمعیاری ادویات کی تیاری اور سپلائی ممکن رہے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک 25 روپے اضافہ پر انوکھی منطق دی گئی کہ پٹرولیم کی ترسیل ممکن رہے اور اب یہی منطق ادوایات کی فراہمی کیلئے اپلائی کی جا رہی ہے حکومتیں اپنی رٹ قائم کرتی ہیں جبکہ یہاں حکومت اشرافیہ کے آگے بے بس دکھائی دے رہی ہے۔ کیا یہ غریب عوام کے ساتھ ظلم اور نا انصافی نہیںعامر صدیقی نے کہا کہ بجلی اور گیس کے ٹیرف بھی یکساں کئے جائیںتاکہ ہر شخص اپنے حصے کا بل با آسانی ادا کرسکے ۔