وزارت پلاننگ سینیٹ اسپیشل کمیٹی سی پیک کو گواردر اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دینے میں ناکام

کمیٹی نے رشکئی اکنامک زون کے متعلق ایک الگ کمیٹی میں خیبر پختونخواہ حکومت سے جواب طلب کر لیا،چئیرمین سی پیک اتھارٹی اگلے اجلاس میں طلب

اسلام آ باد: وزارت پلاننگ سینیٹ اسپیشل کمیٹی سی پیک کو سی پیک کے تحت گواردر اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دینے میں ناکام ،کمیٹی ارکان کا رشکئی اکنامک زون کے متعلق خیبر پختونخواہ حکومت کے جواب نہ دینے پر اور سی پیک پر وزارت پلاننگ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی غیر سنجیدہ بریفنگ پر شدید برہمی کا اظہار ،کمیٹی نے رشکئی اکنامک زون کے متعلق ایک الگ کمیٹی میں خیبر پختونخواہ حکومت سے جواب طلب کر لیا ۔ جمعہ کو چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت سینیٹ اسپیشل کمیٹی سی پیک کا اجلاس ہوا جس میں وزارت پلاننگ سی پیک کے تحت گواردر اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دینے میں ناکام ہو گئی ۔ اجلاس میں اسپیشل اکنامک زون رشکئی میں پلاٹس کی قیمت بہت زیادہ ہونے کے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آ یا ۔ سیکریٹری بورڈ آف انویسٹمنٹ نے کہا رشکئی اکنامک زون کے متعلق خیبر پختونخواہ حکومت کو تین خطوط ارسال کیے لیکن جواب نہیں ملے ۔ 519 ملین پی ایس ڈی پی سے مختص کیا گیا، پی ایس ڈی پی فنڈ کے تحت گیس اور بجلی منصوبوں پر پی سی ون بنا کر متعلقہ وزارتوں کو بھیجا گیا، مجھے فون پر بتایا گیا کہ سی پیک میں بجلی اور گیس پر پی سی ون تیار ہو گیا ، جس پر کمیٹی ارکان رشکئی اکنامک زون کے متعلق خیبر پختونخواہ حکومت کے جواب نہ دینے پر اور سی پیک پر وزارت پلاننگ اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی غیر سنجیدہ بریفنگ پر شدید برہم ہو ئے ۔ اعظم سواتی نے کہا یہ مادر پدر آزاد ادارے ہیں جو سینیٹ کمیٹی کو جواب نہیں دے رہے۔کمیٹی نے رشکئی اکنامک زون کے متعلق ایک الگ کمیٹی میں خیبر پختونخواہ حکومت سے جواب طلب کر لیا ۔ چیئر پرسن شیری رحمان نے کہا اس غیر سنجیدگی اور نامکمل جواب کا خصوصی نوٹس لیتی ہوں، دو دن میں ہر سوال کا جواب جمع کروائیں ورنہ آپ سب کو معطل کر دیں گے، اگر آپ نے ڈبوں میں بند ہو کر کام کرنا ہے تو ہو گیا سی پیک، پارلیمنٹ کو اتنے عام انداز میں ٹریٹ نا کریں، پارلیمنٹ مر نہیں گئی کہ آپ اس طرح کا رویہ اختیار کریں،آئندہ اجلاس میں وزیر پلاننگ اور چئیرمین سی پیک اتھارٹی آ کر کمیٹی کے تحفظات دور کریں،بوستان اسپیشل اکنامک زون پر 2017 سے اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، کمیٹی ممبران مشتعل ہوئے کیونکہ ہم ایک سال سے سی پیک پر جواب مانگ رے ہیں، سی پیک اتھارٹی ختم ہونے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں،اگلی کمیٹی میں سی پیک چئیرمین سے پوچھ لیں گے کہ سی پیک اتھارٹی ختم ہونے پر کیا پیش رفت ہے،۔ سینیٹ سی پیک کمیٹی کو گواردر میں فائنینسنگ کے متعلق بریفنگ دی گئی ،سیکریٹری انرجی پلاننگ کمیشن نے بتایا گوارد میں انویسٹر اور نیپرا کا ٹیرف پر جھگڑا ہے جس کے لیے نیپرا ٹریبیونل بننا ہے، گواردر میں انویسٹر نے کہا ٹیرف کی ایشو کے ساتھ ہی کام چلا لیں گے، گواردر میں جب بات ہو تو زمین کا ایشو تھا، اب ٹیرف کا ایشو ہے، سینیٹر جاوید عباسی نے کہا صاف لگ رہا ہے کہ گواردر کی ترقی کا معاملہ عوام کے ساتھ مذاق تھا، میر کبیر شاہی نے کہا چیلنج کرتا ہوں کہ بلوچستان میں ہونے والا کوئی ایک ترقیاتی کام بھی سی پیک کے تحت نہیں۔