خراب موسم ، زندہ بچنے کے امکانات بھی کم، محمد علی سد پارہ سمیت 3 کوہ پیمائوں کی تلاش کا عمل روک دیا گیا

This image has an empty alt attribute; its file name is 2-6.jpg


اسلام آباد:پاکستان کے کوہ پیما محمد علی سدپارہ سمیت دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-ٹو سر کرنے کی کوشش کرنے کے دوران لاپتا ہونے والے 2 غیر ملکی کوہ پیماں کی تلاش کا عمل دوسرے روز عارضی طور پر روک دیا گیا۔
محمد علی سد پارہ، آئس لینڈ کے جان اسنوری اور چلی کے ایم پی مہر سے اس وقت تک رابطہ نہیں ہوسکا جب سے انہوں نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کیمپ 3 سے کے-ٹو کی چوٹی تک پہنچنے کے سفر کا آغاز کیا۔
ریسکیو مشن میں مقامی چوٹیاں سر کرنے والے 4 کوہ پیما، شمشال سے فضل علی اور جلال، اسکردو سے امتیاز حسین اور اکبر علیم، داوا شیرپا اور دیگر ماہرین شامل ہیں۔
علی سدپارہ کے بیٹے نے کے ٹو سرچ آپریشن کے بعد سکردو میں میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھیوں کو کے-ٹو سر کرنے کے بعد واپسی میں کوئی حادثہ ہوا ہے، وہ 8200 میٹر کی بلندی تک پہنچے تھے۔
ساجد پارہ نے کہا ہے تین دنوں تک لاپتہ ہونے کے بعد شدید ترین سردی میں زندہ بچنے کے بہت کم امکانات ہیں، اس موسم میں بغیر ساز و سامان کے تین دنوں تک کوئی زندہ نہیں رہ سکتا ہے تاہم باڈیز کو لانے کے لیے آپریشن کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آکسیجن سلینڈر میں خرابی سے میری طبیعت بگڑنے پر میرے والد نے مجھے واپس کیمپ تھری بھجوا دیا تھا۔ساجد سدپارہ کا کہنا تھا کہ علی سدپارہ کی تلاش میں پاک آرمی اور غیر ملکی کوہ پیماں کے خاندانوں نے اہم کردار ادا کیا لیکن تیز ہوائیں اور خراب موسم کامیاب آپریشن میں حائل رہا،
اس سے قبل کوہ پیما ٹیم کے ایک عہدیدار نے بتایاتھا کہ لاپتا کوہ پیماں نے چوٹی سر کرنے کے لیے جو راستہ اختیار کیا ریسکیو ٹیمز انہیں راستوں پر ہیلی کاپٹر کی مدد سے تلاش کررہی ہیں اور جب تک تینوں مل نہیں جاتے یہ تلاش جاری رہے گی۔
ٹیم کے ایک دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمز کوہ پیماں کو تلاش کرنے کے لیے سخت کوششیں کررہی ہیں۔
خیال رہے کہ فضائی نگرانی کے ذریعے تلاشی کا عمل ہفتے کو شروع کیا گیا تھا تاہم موسم خراب ہونے کی وجہ سے اسے جاری رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔
دوسری جانب ساجد سد پارہ کیمپ 3 پر 20 گھنٹوں تک لاپتا کوہ پیماں کا انتظار کرنے کے بعد وہ بھی بیس کیمپ پہنچ گئے۔
کے ٹو دنیا کا خطرناک ترین مقام ہے جہاں کئی جان لیوا حادثات رونما ہوچکے ہیں
تینوں کوہ پیمائوں کا جمعے کی رات کو بیس کیمپ سے رابطہ منقطع ہوا اور ان کی ٹیم کو جب ان کی جانب سے رپورٹ موصول ہونا بند ہوگئی تو ہفتے کو وہ لاپتا قرار پائے۔