تعلیمی اداروں کو تجربہ گاہ بنانے اور مزید بندش کا فیصلہ قبول نہیں، ملک ابرار حسین


حکومت اپنے اعلان کردہ مراعاتی پیکج سے یوٹرن لے رہی ہے جس سے نجی شعبہ مسائل سے دوچار ہے

حکومتی نااہلی اور نت نئے تجربات کی وجہ سے تعلیمی درجہ بندی میں پاکستان افریقی ممالک سے بھی نیچے آ گیا

اسلام آباد آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے تعلیمی اداروں کی بندش کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کی دھمکی دے دی ہے، ایسوسی ایشن کے صدر ملک ابرار حسین کہتے ہیں آئے روز کی بندش سے ملک تعلیمی پسماندگی میں افریقی ممالک سے بھی پیچھے چلا گیا ہے، تعلیمی تباہی کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے جبکہ نجی تعلیمی ادارے کورونا ایس او پیز پر عمل پیرا رہتے ہوئے ہر صورت تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ملک ابرار حسین نے این سی او سی کےبدھ کو منعقدہ اجلاس میں مخصوص شہروں کے تعلیمی اداروں کو مزید بند کرنے کے فیصلے پر جاری کردہ اپنے ردعمل میں کیا۔ملک ابرار حسین کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کی بندش کسی صورت قابل قبول نہیں بدقسمتی سے موجودہ حکومت نے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو آسان ٹارگٹ سمجھ رکھا ہے اور انہیں تجربہ گاہ بنارکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے کو نہیں مانتے اور اگر اس فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو اب اساتذہ ملک و قوم کے بہتر مفاد کے لئے لانگ مارچ کریں گے۔ملک ابرار حسین نے کہا کہ حکومتی نااہلی اور نت نئے تجربات کی وجہ سے تعلیمی درجہ بندی میں پاکستان افریقی ممالک سے بھی نیچے آ گیا ہے۔لاک ڈاون کے دوران تعلیمی اداروں اور اساتذہ کو قرضہ دینے کے فیصلے پر بھی وزیر تعلیم نے یوٹرن لے لیا ہے۔کورونا میں لاک ڈاؤن کے باعث مکمل بند ہو جانے والے اورمقروض ہونےوالے نجی تعلیمی اداروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی شعبہ کے لیے خود اپنے اعلان کردہ ریلیف پیکیج پر عمل درآمد کرایا جائے۔