پامی مجھے اس لئے فارغ کرانا چاہتی ہے کیونکہ میں سفارش کو نہیں مانتا علی رضا

اسلام آباد(قاضی بلال خصوصی رپورٹ)پاکستان میڈیکل کمیشن نے تمام ملازمین کو فارغ کرنے کے پروگرام کو حتمی شکل دیدی ۔ اس حوالے سے ایک خصوصی فارم جاری کیا گیا ہے اسے بھرنے کیلئے صرف دس دن دیئے گئے ہیں دس دن تک کوئی رابط نہیں کرے گا اس کاانکار سمجھا جائے گا ۔ملازمین کی اکثریت نے اسے مسترد کیا تو انہیں فارغ کر دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق ملازمین سے کہاگیا ہے کہ اگر وہ پی ایم سی کی آفر سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو انہیں فارغ کردیا جائے گا ۔ مرحلہ وار لوگوں کو فارغ کیا جا رہا ہے اس آفرکو قبول نہیں کرے گا اسے زبردستی گولڈن شیک ہینڈ دیکر فارغ کردیا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق جن لوگوں کے کیسز چل رہے ہیں اگر وہ اس آفر تسلیم کریں گے تو ان کے ساتھ نرمی برتی جائے گی۔ اس حوالے سے تیرہ افسران کو فارغ کیا گیا ہے ۔ نائب صدر علی رضا ایڈووکیٹ کے مطابق پی ایم سی قانون کے مطابق سب کام کیا جا رہا ہے ممبر کی تنخواہیں ان کے تجربہ کے مطابق دی جارہی ہیں جو نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں وہ میرٹ پر ہیں اور ان کی قابلیت کے مطابق تنخواہیں دی جارہی ہیں ۔پی ایم سی قانون کو پڑھنے کی ضرورت ہے یہ تمام ملازمین سرکاری ملازمین کبھی بھی نہیں رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ممبر کی تنخواہ صاف ظاہر زیادہ ہے کیونکہ بی ڈی ایس اور ایل ایل بی سے زیادہ ہے ان کا تجربہ پانچ سے کہیں زیادہ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ پامی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ان حرکت پر خاموش ہوں اور مسکر ا رہا ہوں اصل میں انہیں تکلیف یہ ہے کہ میں سفارش نہیں مانتا اور نہ ان کا آلہ کار بنتا ہوں میں نے آج تک ایک روپیہ نہیں لیا ہے میں ابھی یہ عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہوں میری ذات کا کوئی تعلق نہیں ہے میں تو ادارے کی بہتری کیلئے کام کر رہا ہوں ۔




