کرکٹ سیریز اچانک یک طرفہ طور پر منسوخ، نیوزی لینڈ نے کروڑوں شائقین کرکٹ کے دل توڑ دئیے


وزیراعظم عمران خان کا نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو فون بھی کام نہ کرسکا،وزیرداخلہ نے واقع کو سازش قراردیا
تماشائیوں کے بغیر میچ کھیلنے کی پیشکش بھی رد چئیرمین کرکٹ بورڈ کی طرف سے معاملہ آئی سی سی میں اٹھانے کا فیصلہ
دنیا بھر کے کرکٹر اور کرکٹ شائقین نے نیوزی لینڈ کے فیصلے کو مایوس کن قراردیا ،اچانک فیصلے نے سب کو حیران کر دیا

اسلام آباد(محمدرضوان ملک)پاکستان کے دورے پر آئی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے راولپنڈی میں کھیلے جانے والے اپنے دورے کے پہلے میچ کے آغاز سے قبل ہی سیکورٹی خدشات کو وجہ بناتے ہوئے اچانک سیریز یک طرفہ طو ر پر ختم کر کے دنیا بھر میںکروڑوں شائقین کرکٹ کے د ل توڑدئیے۔ تمام تیاریاں دھری رہ گئیں،سیریز شروع ہونے سے قبل ہی ختم وزیراعظم پاکستان کا دورہ جاری رکھنے کے لئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو کیا گیا فون بھی کام نہ آیا، وزیر داخلہ نے دورے کی اچانک منسوخی کو سازش قراردیا۔ چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجہ نے معاملہ آئی سی سی میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ دنیا بھر کے کرکٹر اور کرکٹ شائقین نے نیوزی لینڈ کے فیصلے کو مایوس کن قراردیا ہے۔ میچ کی منسوخی سے ہر آنکھ اشک بار اور ہر دل دکھی تھاسیکورٹی عملہ ،صحافی اور دیگر عملہ بوجھل قدموں سے سٹیڈیم چھوڑتا رہا۔کوئی بھی نیوزی لینڈ کے اس سیکورٹی خدشے کو تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا۔ا خری وقت میں نیوزی لینڈ کو بغیر تماشائیوں کے بھی میچ کھیلنے کی پیشکش کی گئی لیکن نیوزی لینڈ نے نہ ماننا تھا نہ مانا۔ جمعہ سترہ ستمبر کو پنڈی کرکٹ سٹیڈیم راولپنڈی میں میچ کے لئے تمام تیاریاں مکمل تھیں میچ اڑھائی بجے شروع ہونا تھا تاہم دن ایک بجے تک جب تماشائی میدان میں نہ آئے تو پریس گیلری میں تشویش کا آغاز ہوا۔ یہ تشویش اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب پونے دو بجے کے قریب دونوں کپتان ٹاس کے لئے میدان میں نہ آئے تو یہ تشویش اپنے عروج پر پہنچ گئی اس موقع پر یہ خبریں آئیں کہ نیوزی لینڈ کے کچھ کھلاڑیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ہے جس کی وجہ سے ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ فی الحال ہوٹل سے نہ نکلیں ۔ تاہم اس دوران جب افوائیں عروج پر تھیں کہ دن2:35 پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بیان سامنے آیا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے سیکورٹی خدشات کے باعث یک طرفہ طور پر سیریز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے آگاہ کیا ہے کہ انہیں سیکورٹی کے حوالے سے الرٹ کیا گیا ہے اس لئے یکطرفہ طور پر سیریز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بیان میں واضح کیا گیا کہپاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پاکستان نے مہمان ٹیم کی سیکورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کررکھے تھے. ہم نے نیوزی کرکٹ بورڈ کو بھی یہی یقین دہانی کرائی تھی. وزیر اعظم نے ذاتی طور پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو رابطہ کرکے انہیں بتایا کہ ہماری سیکورٹی انٹیلیجنس دنیا کی ایک بہترین ایجنسی ہے اور مہمان ٹیم کو کوئی سیکورٹی تھریٹ نہیں.نیوزی لینڈ ٹیم کے آفیشلز نے حکومت پاکستان کی سیکورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے دورہ جاری رکھنے سے معذوری ظاہر کر دی جس پر دورہ منسوخ ہو گیا ۔ نیوزی لینڈ کے اس یک طرفہ فیصلے سے دنیا بھر میں کروڑوں شائقین کرکٹ کے دل ٹوٹ گئے۔ اس موقع پرسٹیڈیم کے اندر اور باہر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل دکھی تھا۔ سیکورٹی عملہ ،صحافی اور دیگر عملہ بوجھل قدموں سے گرائونڈ چھوڑتا رہا۔ نیوزی لینڈ کے اچانک میچ کھیلنے سے معذرت کے بعد کرٹ بورڈ نے اپنی سے کوشش کی لیکن مسئلہ حل نہ ہونے پر معاملہ دوشنبے میں وزیراعظم کے علم میں لایا گیا ۔ وزیراعظم نے اس معاملے پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم سے فون پر بات کر کے بھی دورہ جاری رکھنے کی درخواست کی لیکن وہ انہیں راضی نہ کر سکے ۔وزیراعظم عمران خان نے انہیں بتایا کہ ہماری سیکورٹی انٹیلیجنس دنیا کی ایک بہترین ایجنسی ہے اور مہمان ٹیم کو کوئی سیکورٹی تھریٹ نہیں.لیکن نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ہے جب ٹیم باہر نکلے گی تو حملہ ہوسکتا ہے۔لہذا ہم کھلاڑیوں کی زندگیوں کو دائو پر نہیں لگا سکتے۔ وزیرداخلہ شیخ رشید احمد جو دو روزہ دورہ پر جمعہ کی صبح سکردو پہنچے تھے ہنگامی طورپر اپنا دورہ مختصر کر کے واپس پہنچے وزارت داخلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے یک طرفہ طو ر پر دوہ منسوخ کیا ہے ۔انہوں نے دورہ کے خاتمے کو ایک سازش قراردیاانہوں نے کہا دستانے پہنے ہاتھوں نے سازش کی ہے ۔تاہم انہوں نے سازش کرنیوالوں کا نام لینا مناسب نہیں سمجھا اور کہا کہ ہم ذمہ دار ملک ہیں۔انہوں نے کہا نیوزی لینڈ ٹیم کے لیے کمانڈوز سمیت بھرپور سیکیورٹی تھی، نیوزی لینڈ ٹیم کو بغیر تماشائیوں کے میچ کروانے کی بھی پیش کش کی۔لیکن نیوزی لینڈ والے نہ مانے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے بھی اپنے کرکٹ بورڈ کی حمایت کی اور کرکٹ ٹیم کے دورہ منسوخ کرنے کی حمایت کی۔ شیخ رشید نے کہا کہ ہمیں کوئی تھریٹ موصول نہیں ہوئی، پاکستان کی امن کیلیے کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا، دستانے پہنے ہاتھ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی کوئی ناکامی نہیں، چار ماہ سیکیورٹی ٹیم نے معائنہ کیا اور منظوری دی، ہمارے کسی ادارے کے پاس کوئی تھریٹ نہیں تھی، بھارت کا میڈیا ہمارے خلاف زہر اگل رہا ہے۔ایک سوال
کے جواب میںوزیرداخلہ نے کہا کہ انگلینڈ ٹیم کے لیے انتظامات مکمل ہیں، فیصلہ انہوں نے کرنا ہے، انگلش ٹیم پاکستان آئے، اسے ویلکم کریں گے، پاکستان میں کرکٹ کے لیے سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین رمیز راجہ نے بھی اچانک دورے کے خاتمے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان معاملہ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں
اٹھائے گا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ جیسے ہی ٹیم ہوٹل سے باہر نکلے گی حملہ ہو گالیکن کسی نے ان سے یہ نہ پوچھا کے واپس جانے کے لئے بھی تو ہوٹل سے نکلنا پڑے گا۔

                                                                                                           بشکریہ:نوائے وقت