
اسلام آباد:نسلہ ٹاور کی غیر قانونی منظوری میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے کچھ گرفتاریاں کی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق اینٹی کرپشن ایسٹ نے ڈائریکٹر جنرل کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی آصف میمن کے علاوہ اسسٹنٹ ڈائرکٹر لینڈ عاطف علی خان اور ایڈیشنل ڈائریکٹر ریکوریز شیخ فرید کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا۔
ملزمان معطل تھے لیکن اس کے باوجود گلستان جوہر بلاک 2، 16 اور کورنگی میں زمینوں کے غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث ہونے کے علاوہ وہ آصف علی میمن کے غیر قانونی احکامات پر عملدرآمد کر رہے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زبیر بھی مقدمے میں نامزد ہے تاہم وہ فرار ہوگیا، حکام کے مطابق ملزمان کوعدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کیس میں محکمہ اینٹی کرپشن کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دے رکھا ہے جس کے بعد پولیس نے کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر نسلہ ٹاور کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ فیروز آباد تھانے میں درج کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے نسلہ ٹاور کے 30ذمہ داران کے نام دیے ہیں اور صفدر مگسی ان میں سر فہرست ہے، صفدر مگسی نسلہ ٹاور بنائے جانے کے وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھا تاہم سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور قادر عرف کاکا نے صفدر مگسی کو گریڈ 21 میں تعینات کر رکھا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق دیگر مطلوب ملزمان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماجد مگسی اور اس وقت کے ڈپٹی ڈائریکٹر سرفراز حسین ودیگر شامل ہیں۔



