
ملک میں اقتدار تبدیل ہوا آئین اور جمہوریت کی جیت ہوئی کوئی مانے یا نہ مانے ہمیں عمران خان کی کوچہ اقتدار سے یوں واپسی کی امید نہ تھی خان صاحب کرنے کیا آئے تھے اور اب پونے چار سال کے بعد کیا کر کے گئے ہیں وہ اپنے وعدوں میں سے ایک بھی پورا نہ کر سکے اور نہ ہی کسی خواب کی تعبیر دے سکے ہیں ۔
2018 میں ڈالر 120 روپے کا تھا اور آج وہ 184 روپے کی سطح کو چھو رہا ہے بعض اشیا ضروریہ کی قیمتیں تین تین بلکہ چار چار گنا بڑھ چکی ہیں بیڈ گورننس پولیس کلچر اور انتظامیہ کی نا اہلی کے عوام پہلے سے بھی بڑھ کر تختہ ستم بنے ہوئے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کی جو نیم خودمختاری کا سٹیٹس حاصل تھا وہ بھی 2019 میں ختم ہوگیا اور کشمیر پر مودی حکومت کے ظلم و ستم پہلے سے کہیں بڑھ چکے ہیں۔فارن پالیسی میں بھی خان صاحب نے کئی چھکے مارے اور پاکستان کے لیے ناقابلِ تصور مشکلات پیدا کیں۔اِن پونے چار سالوں میں انڈیا کے خلاف بھڑکے مارنے اور کبھی اس کی بے پناہ تعریفیں کرنے کے علاوہ مسلہِ کشمیر یا ہندوستانی مسلمانوں کی حالتِ زار کے بارے میں پڑوسی ملک سے کوئی مذاکرات ہوسکے اور نہ ہی اس بارے میں عالمی کیمیونٹی کو متحرک کیا جا سکا۔
خان صاحب کے دورِ میں پاکستان کے قریب ترین برادر اسلا می ملک سے بھی تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے ۔جاتے جاتے کسی ( سازش تھیوری کا شاخسانہ ) بھی خان صاحب قوم کو دے گئے ہیں اور پاکستان کے روایتی دوست امریکا سے بھی ہمارے تعلقات نہایت نچلی سطح پر چلے گئے ہیں۔اس ہنگامہ میں تو شاید خان صاحب کو غور و فکر کی مہلت نہیں ملی ہوگی مگر حکومتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر انھیں ( گوشہِ تنہائی ) میں اپنی پونے چار سالہ پرفارمنس پر جائزہ ضرور لینا چاہیے ۔عمران خان کے خلاف ہمہ گیر مخالفت ان کی ہمہ گیر ناکامی کی بنا پر ہوئی ہے ) چونکہ وہ دو دہائی سے اپوزیشن میں رہے اور اپنے سے پہلے حکمرانوں اور سیاستدانوں پر سخت تنقید کرتے رہے اِس لئے برسرِ اقتدار آ کر بھی انہوں نے اپوزیشن والا طرزِ عمل اور لب و لہجہ نہیں چھوڑا بلکہ اس تلخ نواہی میں بہت زیادہ اضافہ بھی کر دیا تھا۔خان صاحب نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیں کہ پارلیمانی نظام میں اگرچہ اپوزیشن حکومت کا حصہ نہیں ہوتی مگر ملکی و قومی مسائل میں وہ بھی اتنی ہی حصہ دار ہوتی ہے جتنی برسرِ اقتدار پارٹی ۔
خان صاحب نے ہر قابلِ ذکر چھوٹے بڑے سیاستدان کو جیل تک پہنچایا اِس کے علاوہ انہوں نے علیم خان جیسے قریبی دوست کو بھی ذاتی وجوہات کی بنا پر جیل میں ڈلوایا اور اپنے کئی دوستوں کے خلاف میرٹ پر نہیں ذاتی پسند ناپسند پر مقدمات قائم کروائے ۔عمران خان اپنے دورِ میں کوئی تبدیلی نہ لا سکے معیشت نزع کی حالت کو پہنچ چکی ہے۔ جنابِ عمران خان نے اقتدار سے رخصتی کا نوشتہِ دیوار پڑھ کر بھی سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ نہیں کیا وہ 9 اپریل کو پہلے 13 گھنٹے تک قومی اسمبلی کے پروسیجر کو اور پھر سپریم کورٹ کے احکامات کو حیلے بہانوں سے پسِ پشت ڈالتے رہے اِس دوران اسلام آباد ہی نہیں دنیا بھر میں مختلف افواہیں گردش کرتی رہیں اور پاکستانی دھڑکتے دِلوں کے ساتھ خیر کی دعا مانگتے رہے شب 11 : بجے کے بعد اسلام آباد میں اعلی عدالتیں کھل گئی اور سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان اپنے 7 اپریل کے فیصلے پر پہرا دینے کے لئے عدالتِ عظمی تشریف لے آئے تو خان صاحب بھی قیدیوں کی وین دیکھ کر بیک فٹ پر گئے اورمیچ درمیان میں چھوڑ کر چلتے بنے ۔


