برطانیہ و یورپ میں تحریک انصاف کے ترجمان صاحبزادہ جہانگیر کو ویڈیو میں نعرے بازی کراتے دیکھا جاسکتا ہے
شیخ رشید اور راشد شفیق کے علاوہ دیگر سیاسی و سماجی رہنمائوں کی جانب سے واقع کی شدید مذمت

ریاض:پاکستان میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مسجدنبویۖ کی بے حرمتی پر کچھ پاکستانیوں کو گرفتار کر لیاگیا ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں پولیس کی کارروائیاں ابھی جاری ہیں۔ملوث پاکستانیوں کو ڈی پورٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے سعودی حکام سے درخواست کی ہے کہ گرفتا ر پاکستانیوں کے حوالے سے تفصیلات پاکستان کو بھی فراہم کی جائیں تاکہ ان کے خلاف کاروائی ہو سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز روضہ رسول پر وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کی حاضری پر نعرے بازی اور بد تمیزی کی گئی اور مشتعل ہجوم نے روضہ رسول کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا۔ نعرے لگاتے مشتعل ہجوم وفاقی وزرا کو مارنے کے لیے ہاتھ بڑھاتے اور ویڈیوز بناتے رہے۔
وزیراعظم شہباز شریف 13 رکنی وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے 3 روزہ سرکاری دورے پر مدینہ منورہ پہنچے تھے۔
دوسری جانب ویڈیو میں برطانیہ اور یورپ میں چیئرمین تحریک انصاف کے ترجمان صاحبزادہ جہانگیر کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ پی ٹی آئی رہنما نے نعرے بازی کرائی اور وزیروں سے بدتمیزی کی ویڈیوز بھی انہوں نے ہی وائرل کرائیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ واقعہ پوری قوم کیلیے باعث شرم ہے، اس واقعہ کو باقاعدہ یہاں سے منظم کیاگیا، اس واقعہ کی پوری منصوبہ بندی کی گئی۔ کہا اس قسم کاماحول پیدا کرینگے تو ایسے ماحول کا سامنا ان کو بھی کرنا پڑیگا، جب عمران خان حلقوں میں جائیں گے تو انکو پتا لگ جائیگا۔
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ مسجد نبویۖواقعے میں ملوث افراد کو ڈی پورٹ کرنے کیلیے سعودی حکومت سے درخواست کریں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مدینہ میں گزشتہ روز کا واقعہ کوئی پلان نہیں تھا لیکن اسکے بعد شاہ زین بگٹی کی کال پر اسکے گارڈز کا قاسم سوری پر حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چوبیس گھنٹے کھلنے والی عدالت کو قاسم سوری پر حملے کا نوٹس لینا چاہیے اور ملزمان کیخلاف انسداد دہشت گردی دفعات کے تک مقدمہ درج ہونا چاہئے۔
مسجد نبویۖ کی بے حرمتی کے اس واقع کی سابق وزیرداخلہ شیخ رشید اور ان کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کی جانب سے ستائش کی گئی ہے جبکہ دیگر سیاسی و سماجی رہنمائوں فنکاروں اور دیگر نے اس واقع کی مذمت کی ہے جن میں پی ٹی آئی کے سابق وزیر مملکت علی محمد خان بھی شامل ہیں۔



