تحریک انصاف کو بڑا دھچکا :الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی منحرف ارکان قومی اسمبلی کے خلاف نااہلی ریفرنس مسترد کردئیے

اسلام آباد: تحریک انصاف کو بڑا دھچکا الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی منحرف ارکان قومی اسمبلی سے متعلق دائر نااہلی کے ریفرنس کو مسترد کردیا ہے۔الیکشن کمیشن کے تین رکنی بینچ نے فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا۔بدھ کو پی ٹی آئی منحرف ارکان قومی اسمبلی کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی اور دلائل مکمل ہوجانے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
20 ارکان قومی اسمبلی کی نا اہلی سے متعلق ریفرنس پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کا ڈیکلیئریشن خارج کر دیا ہے۔
کیس کی سماعت میں نور عالم خان کے وکیل گوہر خان نے دلائل دیئے۔انہوں نے بتایا کہ نور عالم نے پی ٹی آئی شوکاز نوٹس کے جواب میں کہا تھا کہ نہ پی ٹی آئی چھوڑی ہے اور نہ ہی پارلیمانی پارٹی۔وکیل نور عالم کا کہنا تھا کہ پارٹی نے بعد میں کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹ نہیں دینا، جو ثابت کرتا ہے پارٹی نے تسلیم کیا نور عالم ان کا رکن ہے۔انہوں نے کہا کہ نور عالم نے تین اپریل کو اجلاس میں شرکت کی کیونکہ پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ اجلاس میں شرکت کریں۔وکیل نور عالم نے کہا کہ پارٹی نے دوبارہ کوئی ہدایت نہیں کی کہ آپ اجلاس میں شرکت نہ کریں۔انہوں نے دلائل میں مزید کہا کہ نور عالم نے کسی اور پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔
ممبر الیکشن کمیشن نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا نور عالم خان نے تحریک عدم اعتماد کے دن ووٹ کاسٹ کیا؟ وکیل نور عالم خان نے جواب دیا کہ نور عالم خان نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹ کاسٹ نہیں کیا، نور عالم خان پر آرٹیکل 63 ون (اے) کا اطلاق نہیں ہوتا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی ۔
پی ٹی آئی نے ارکان قومی اسمبلی کے منحرف ہونے سے متعلق میٹیریل الیکشن کمیشن میں پیش کردیا، شاہ محمود قریشی، اسد عمر اور عامر ڈوگر کی جانب سے منحرف ارکان کے خلاف حلف نامے بھی الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ریفرنس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل فیصل چوہدری نے جواب الجواب دینے کا موقف اپناتے ہوئے مزید مواد جمع کرانے کی استدعا کی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن ٹریبیونل ہے جس کے سامنے مواد رکھنا ہے، میں نے جمع کرائے گئے بیان حلفی کی تصدیق کرانی ہے، مجھے مواد رکھنا ہے جس پر ڈکلئریشن بنایا گیا، مجھے بتانا ہے کہ چئیرمین کو کیا بھیجا گیا، یہ کیس سپریم کورٹ میں بھی چل رہا ہے، اگر جوابدہ مواد جمع کرا سکتے ہیں تو مجھے بھی مواد جمع کرانے کی اجازت دی جائے۔
دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکلا نے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کی استدعا کی تو چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اونچی آواز میں بات کر کے تاریخ نہیں لی جاسکتی، پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ دیں گے۔
اس موقع پر منحرف اراکین کے وکیل نے مزید مواد پراعتراض کرتے ہوئے پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ دینے کا موقف پیش کیا۔چیف الیکشن کمیشن نے ریفرنس کے ساتھ شواہد نہ جمع کرانے کی وجہ دریافت کی تو فیصل چوہدری نے کہا کہ شواہد ممبران کے لیے نہیں، الیکشن کمیشن کیلئے تھے۔
دوران سماعت الیکشن کمیشن کے بینچ میں موجود سندھ کے ممبر کے استفسار کرنے پر پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا کہ منحرف ارکان نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیارکی جس پر پارٹی کی جانب سے انہیں شوکازنوٹسزجاری کیے گئے۔
دوران سماعت منحرف ارکان پنجاب اسمبلی نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کروایا۔
پی ٹی آئی کے میٹیریل پیش کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے منحرف رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب ڈیکلیریشن الیکشن کمیشن کو موصول ہوچکا ہے تو اب کیوں نیا میٹیریل لگایا جارہا ہے۔
نور عالم خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریفرنس میں کہا گیا منحرف ارکان نے اپوزیشن جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلی، کونسی جماعت میں شمولیت اختیار کی، یہ نہیں بتایا گیا، یہ ریفرنسز بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں، ان کو اب شواہد دینے کا وقت نہ دیا جائے، یہ ریفرنسز کے ساتھ شواہد جمع کراتے۔
الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ نے فیصل چوہدری سے سوال کیا کہ کیا منحرف ارکان نے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کی؟جس پر ان کا کہنا تھا کہ جی انہوں نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کیا، دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرنے پر شوکاز نوٹسز جاری کئے،ان منحرف ارکان کو شوکاز دیکر جوابدہی کا موقعہ دیا گیا، کچھ ارکان نے جواب نہیں دیا اور کچھ پیش نہیں ہوئے۔
منحرف ارکان کے وکیل کا مقف تھا کہ ریفرنس پر ارکان کو جواب دہی کا موقعہ نہیں دیا گیا۔