جب سے اقتدار سے علیحدہ ہوئے ہیں انہیں یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ میرے بعد یا میرے بغیر پاکستان کا کیا بنے گا
پاکستان کی بقاء سلامتی اور خوشحالی کے لئے خود کو ناگزیر تصور کرنے والے عمران خان کو اس ذہنی حالت تک پہنچانے کا ذمہ دار کون
محمدرضوان ملک

سابق وزیراعظم عمران خان جو خو د کو پاکستان کی سلامتی کے لئے ناگزیر تصور کرتے ہیں ایک بار پھر ارباب اختیار کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور ملک کے تین ٹکڑے ہوں گے ۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو اور شانگلہ میں خطاب کے دوران عمران خان کا کہنا تھاکہ یہ اصل میں پاکستان کا مسئلہ ہے، اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ ہے، اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں یہ بھی تباہ ہوں گے اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی کیونکہ ملک دیوالیہ ہوگا۔
تاہم انہوں نے آگے جملہ مکمل نہیں کیا کہ وہ درست فیصلہ کیا ہے ۔غالبا وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ اگر ملک بچانا ہے تو مجھے کسی بھی طرح دوبارہ وزیراعظم بنادیا جائے ۔ وہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں اور اقتدار کھو جانے کے بعد سے انہیں ایک ہی فکر کھائے جارہی ہے کہ میرے بعد یا میرے بغیر پاکستان کا کیا بنے گا۔
ساتھ ہی شانگلہ میں خطاب کے دوران تو انہوں نے کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ بھی واضح کر دیا کہ قوم جانتی ہے کہ طاقت کا مرکز کہاں ہے ۔قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے ملک نیچے چلا جائے اور آپ کہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں آپ بے شک کہتے رہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں لیکن قوم جانتی ہے کہ پاور کس کے پاس ہے اور قوم کو کس نے بچانا ہے
کاش جہاں انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو ملک اور اپنے آپ کو بچانے کے لئے درست فیصلے کرنے کی وارننگ دی وہاں یہ بھی بتادیتے کہ درست فیصلہ کون سا ہے ۔لیکن وہ اتنی ہمت نہ کر سکے کہ وہ درست فیصلہ مجھے دوبارہ کسی بھی طرح وزیراعظم بنانا ہے،انہوں نے درست فیصلے کی نشاندہی نہ کر کے اور خاموش رہ کر یہ تو بتا دیا ہے کہ ابھی وہ اتنے ذہنی مریض نہیں ہیں جتنا اپوزیشن سمجھ رہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کو اس حالت تک پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے کس نے ان کے ذہن میں بٹھا دیا ہے کہ وہ سب سے ایماندار، سب سے مخلص ، سب سے عقلمند اور سب سے دلیر اور سب سے درست فیصلے کرنے والے ہیں اور نعوذباللہ جہاں وہ کھڑے ہو جائیں اور اللہ اور اس کا رسول ۖ بھی ان کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے اسی طرف ہو جاتے ہیں ۔
وہ پاکستان یا دنیا کے پہلے حکمران نہیں جوخود پسندی کے اس زعم میں مبتلاء ہیں اس سے قبل بھی دنیا میں کئی ایسے حکمران گزرے ہیں ۔ انسانی تاریخ ان کے کارناموں سے بھری پڑی ہے۔
عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھ نہیں رہے کہ یہ سب باتیں اس وقت تو اچھی لگتی تھیں اور چل جاتی تھیں جب تک انہیں اقتدار نہیں ملا تھا لیکن کیا کیجئے کہ اب وہ آزمائے جا چکے ہیں ۔ عمران کو کون بتائے کہ اسٹیبلشمنٹ جو غلطی کر چکی اسے درست کر لے تو بڑی بات ہے اب وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ عمران کو دوبارہ اقتدار میں لانے کا رسک لے سکے
خود پاکستان میں بھی سابق آمر جنرل پرویز مشرف اسی بیماری میں مبتلاء تھے اور انہیں یہ غم کھائے جارہا تھا کہ اگر میں اقتدار سے الگ ہو گیا تو پاکستان تباہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور مخلص دوستوں کے منع کرنے کے باوجود وہ ملک بچانے کراچی آگئے تھے تاہم پھر کراچی سے اسلام آباد خود نہ آسکے بلکہ انہیں لایا گیا حالانکہ وہ خیال کر رہے تھے کہ عوام کا جم غفیر انہیں کراچی سے اسلام آباد لائے گا۔
عمران خان کے بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ اچانک اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اب ملک شدید خطرے میں ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور پاکستان کے تین ٹکڑے ہوں گے۔
ان کا کہنا تھاکہ ان لوگوں کو اقتدار سے نہ نکالا تو ملک کے نیوکلئیر اثاثے چھن جائیں گے اوردرست فیصلے نہ کیے گئے تو پاکستان کے تین ٹکڑے ہوں گے۔عمران خان کے اس بیان کے بعد حکومتی اتحاد میں شامل رہنمائوں اور خود وزیراعظم نے ان کے بیانات کی شدید مذمت کی ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف کی عمران خان کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت ترکی میں معاہدے کر رہا ہوں اور عمران نیازی ملک کے خلاف کھلی دھمکیاں دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کواگر عوامی عہدے سے نااہل قرار دینے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت ہے تو ان کا تازہ انٹرویو کافی ہے، عمران خان اپنی سیاست کریں لیکن حد سے تجاوز اور پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات کی ہمت نہ کریں۔
سابق صدر آصف علی زرداری اور ترجمان پی ڈی ایم کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عمران خان کے بیان کو ملک دشمنی کے مترادف قرار دیا تھا۔
عمران خان کے انٹرویو پر سابق صدر آصف علی زرداری نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی پاکستانی اس ملک کے ٹکڑے کرنے کی بات نہیں کر سکتا۔
علاوہ ازیں عمران خان کے بیان پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اتنی بے قراری ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ادارے انھیں اقتدار میں رکھیں ورنہ ایٹمی اثاثے چھن جائیں گے۔
ن لیگ کے رہنما طلال چوہدری کا کہنا تھاکہ عمران اس سے پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر انہی لوگوں کو اقتدار میں رکھنا ہے تو بہتر ہے پاکستان پر ایٹم بم گرا دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



