سپریم کورٹ مصدقہ صادق اور امین کے خلاف درخواست سننے سے گریزاں

اسلام آباد:سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنمائوں کو ملکی اداروں کے خلاف بیان بازی سے روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کردی گئی ہے۔قوسین فیصل ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مقف اختیار کیا گیا کہ حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنما قومی اداروں کے خلاف مسلسل بیانات دے رہے ہیں۔
عمران خان اپنے بیانات کے ذریعے قومی اداروں اور ریاست کو کمزور کر رہے ہیں۔ادارے کمزور ہوں گے تو غیر ملکی سازش کامیاب ہو سکتی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر عہدیداران کی جانب سے عدلیہ ، فوج اور الیکشن کمیشن کے خلاف بیانات کا سلسلہ جاری ہیں۔اپنی تقاریر میں عمران خان نے فوج کو سیاست میں شامل ہونے اور ان کا ساتھ دینے کا کہا۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ عمران خان کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے کمیشن تشکیل دے جو ا ن بیانات کا جائزہ لے کر ہونے والے نقصانات کا بھی جائزہ لے۔ عدالت عمران خان سمیت دیگر رہنماں کو قومی اداروں کے خلاف بیانات دینے اور میڈیا پر نشر کرنے سے روکنے کے احکامات دے۔درخواست میں عمران خان ، فواد چودھری، شیریں مزاری، الیکشن کمیشن ، پی ٹی اے ، پیمرا اور ایف آئی اے کو فریق بنایا گیاہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اس طرح کی ایک درخواست دائر کی جاچکی ہے۔ لیکن سپریم کورٹ کے لئے مشکل یہ ہے وہ پہلے ہی اپنے ایک فیصلے میں عمران خان کو صادق اور امین قراردی چکی ہے اور بابا رحمتے ڈیم والی سرکار کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے گلے کی ہڈی بنا ہوا ہے۔



