عمران خان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل میں شہباز گل کو برہنہ کر کے ان پر تشدد کیا گیا ،ہاشم ڈوگر نے کسی بھی قسم کے تشدد کی تردید کی ہے
عمران جیسے بڑے لیڈر کے لئے یہ کسی طور مناسب نہیں کہ وہ کسی بھی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھاد یں،تجزیہ کاروں کی رائے

اسلام آباد(محمد رضوان ملک )پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے وزیرداخلہ ہاشم ڈوگر نے اپنے ہی لیڈر عمران خان کو جھٹلا دیا ہے۔منگل کو اڈیالہ جیل کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے لیڈر کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ شہباز گل پر کسی طرح کا کوئی تشدد نہیں ہوا ہے ۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو گزشتہ روز ایک ٹی وی انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ اڈیالہ جیل کے اندر شہباز گل پر بہیانہ تشدد کیا گیا ہے ان کے کپڑے اتار کر ان پر تشدد کیا گیا جو جانور بھی نہیں کرتے ،تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ شہباز شریف نے اپنے انٹرویو کے دوران ایک لائن غلط بول دی تھی۔ لیکن جیل کے اندر ان پرتشدد کی انتہاء کر دی گئی ۔عمران خان نے الزام عائد کیا کہ شہباز گل پر جس طرح کا تشدد کیا گیا ایسا تو جانور بھی نہیں کرتے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ شہباز گل پر تشدد کر کے ان سے یہ پوچھا جاتا رہا کہ یہ بتائو کے جنرل فیض حمید کب کب عمران خان سے ملنے آتے تھے اور عمران خان کھاتے کیا تھے۔ یہ سب پوچھنے کے لئے کپڑے اتار کر ان پر تشدد کیا جاتا رہا۔
تاہم یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پنجاب جہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے وہاں کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے منگل کو اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ۔ دورے کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز گل پر کسی بھی قسم کے تشدد کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز گل پر کوئی تشدد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا شہباز گل کی طرح تمام قیدی ہمارے لئے مہمان کی حیثیت رکھتے ہیںکسی پر تشدد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی شہباز گل پر ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے کہا کہ شہباز گل کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے، وہ بالکل ٹھیک ہیں اور سوال ہی نہیں پیدا ہوتا شہباز گل سمیت کسی قیدی کو کوئی انگلی لگادے جب کہ عمران خان سے ملاقات کر کے بتائوں گا کہ اصل حالات کیا ہیں۔
ایک صحافی کی جانب سے شہباز گل کے بیان کی حمایت سے متعلق سوال پر ہاشم ڈوگر نے ایبسولوٹلی ناٹ کا جواب دے دیا۔
صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں 40 سے زائد جیل موجود ہیں، جہاں سکیورٹی اور کھانے کا اچھا انتظام ہے تاہم وزیرا علی پرویز الہی سے بات کر کے قیدیوں کی ایک ماہ معافی کا اعلان کروں گا۔
ہاشم ڈوگر نے کہا کہ جیلوں میں خواتین قیدیوں کے لئے فیملی رومز تعمیر ہوں گے، پورے پنجاب میں50 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں اور جو قیدی کام کریں گے انہیں اس کی اجرت دی جائے گی۔
اس حوالے سے دنیا ٹی وی پر بتایا گیا کہ وہ اس معاملے پر وزیرداخلہ پنجاب ہاشم ڈوگر سے بات کریں گے ۔لیکن پھر انہیں لائن پر نہ لیا جاسکا۔
تجزیہ کاروں نے عمران خان کے اس بیان پر مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا تھاکہ سابق وزیراعظم اور عمران خان جیسے بڑے لیڈر کے لئے یہ قطعا مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی بھی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بڑھادیں۔
دوسری جانب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو شہباز گل سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر ڈی آئی جی جیل خانہ جات اور اڈیالہ جیل کے سپرٹنڈنٹ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنما پیر کو چھ گھنٹے انتظار کے بعد بھی شہباز گل سے ملاقات نہ کر سکے تھے۔
عمران کے بیان کا علم ہونے کے بعد ہاشم ڈوگر نے ایک بھونڈے طریقے سے اپنے ٹویٹ میں وضاھت کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے


