خاتون کو حراساں کرنے والے ڈی جی پمرا اپنی ملازمت اور عزت نہ بچا سکے

صدر مملکت کاملازمت سے برطرفی کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر جنرل پیمرا کو 25 لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا بھی حکم


اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جنسی ہراسگی کیس میں ملوث ہونے پر ڈائریکٹر جنرل پیمرا کی ملازمت سے برطرف کرنے کا حکم برقرار رکھا ہے بلکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ڈائریکٹر جنرل پیمرا کو 25 لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا حکم بھی دے دیا۔ صدر مملکت کی جانب سے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسگی بمقام کار کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
صدر مملکت نے ملازمت سے برطرفی کی بڑی سزا برقرار رکھتے ہوئے جرمانہ 20 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کر دیا ہے۔
ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کہ ثابت ہو چکا ہے کہ ڈی جی نے خاتون ملازم کو ملزم نے ناجائز مطالبات کے ذریعے ہراساں کیا۔ ایسے کیسز سامنے آتے ہیں اور ثابت ہوجاتے ہیں تو قانون اپنی طاقت کا استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔
صدر مملکت نے خاتون کو دی جانے والی رقم ملزم کی تنخواہ کے بقایا جات سے وصول کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 25 لاکھ روپے خاتون کو ملزم کے ہاتھوں مشکلات کے بدلے معاوضے کے طور پر دئیے جائیں۔ ملزم نے خاتون ملازم کو شدید ذہنی اذیت دی اور اس کی ساکھ کو دا پر لگایا۔
انہوں نے کہا کہ ملزم کا فعل واضح مثال ہے کہ کن طریقوں سے خواتین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور وقت آگیا ہے کہ آئین کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کی راہ ہموار کی جائے۔
سابق ڈی جی پمرا حاجی آدم خان پر الزام تھا کہ انہوں نے ساتھی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔
وفاقی محتسب برائے انسداد حراسیت خواتین کشمالہ طارق نے چار نومبر 2021 ء کو ساتھی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ڈی جی ایڈمن اینڈ ایچ آر پمرا حاجی آدم خان کو ملازمت سے برطرف کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا ۔ساتھ ہی ہراسانی کیس میں معاونت کرنے والے دوسرے ملازم (جنرل منیجر چئیرمین آفس )کو ایک درجہ تنزلی اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزاء سنائی تھی۔
یاد رہے کہ پمرا میں ڈیلی ویجز پرکام کرنے والی ملازمہ سدرہ کریم نے 20 جنوری 2021 ء کو پمراء کے مذکورہ ڈی جی اور ان کی معاونت کرنے دوسرے ملازم کے خلاف ہراسانی کی درخواست دی تھی۔