
پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری جنرل اور سابق چیئرمین سینیٹ سید نیر حسین بخاری نے نواز شریف کی میڈیا کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف رونے والی شکل بنا کر نہ اپنے جرائم پر پردہ ڈال سکتے ہیں اور نہ ہی معصوم بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا یہ کہنا کہ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں، اقامہ پر نکالا گیا ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ نواز شریف کے کیسز عدالت میں زیر سماعت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ شخص مکمل پروٹوکول میں شاہانہ انداز میں عدالت میں پہنچے جنہیں سیاسی مخالفین کو احتساب کی آڑ میں انتقام کا نشانہ بنانے کا شوق تھا۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ نواز شریف اپنے کئے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا احتساب من پسند ججوں کے ذریعے کیا۔ نواز شریف کے وزراءاور بھائی احتساب عدالت کے جج کو ہدایات دیتے رہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سخت سے سخت اور زیادہ سے زیادہ سنائیں۔ نیر حسین بخاری نے کہا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے رانا مقبول نامی پولیس جونیئرآفیسر کو آئی جی سندھ بنایا اور اس آئی جی پولیس نے آصف علی زرداری کو غیرقانونی طریقے سے جیل سے سی آئی اے سنٹر منتقل کیا جہاں آصف علی زرداری پر ب دترین تشدد ہوا۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے لئے نوٹو ں سے بھرے بریف کیس کس نے تقسیم کئے تھے اور پھر سپریم کورٹ پر حملہ بھی نواز شریف کا عمل تھا۔ سید نیر حسین بخاری نے کہا کہ اپنے دکھڑے بیان کرنے کی بجائے نواز شریف کو یاد کرنا چاہیے کہ کس طرح یوسف رضا گیلانی کے خلاف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ گئے تھے۔ درایں اثناءپاکستان پیپلزپارٹی کے سیکریٹری اطلاعات مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ منتخب وزرائے اعظم کے خلاف سب سے زیادہ سازشیں کرنے والے آج معصوم بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ نواز شریف نے اپنی پارٹی کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کے خلاف سازشیں کیں اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے خلاف سازشیں کوئی راز کی بات نہیں ہے۔ انہو ں نے کہا کہ نواز شریف آج احتساب کو انتقام کا نام دے رہے ہیں۔ وہ سیف الرحمن کے احتساب کو بھی یاد کرے۔


