بلآخر تاریخ آگئی پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جمعے کو لاہور سے شروع ہوگا

لانگ مارچ کا کوئی ٹائم فریم نہیں کہ کب تک جاری رہے گا، مجھے گرفتاری کا کوئی خوف نہیں ،ساتھ ہی چار نومبر کو اسلام آباد میں جلسے کے لئے انتظامیہ کو درخواست بھی دے دی
اسلام آباد کسی سے لڑنے نہیں جارہے ،احتجاج پرامن ہوگا ،سب کو نظرآئے گا قوم کدھر کھڑی ہے، عمران خان
عمران خان جو مرضی کریں لانگ مارچ سے حکومت نہیں گرتی، یہ دلی کا تخت نہیں جو وہاں پہنچ کر قبضہ کرلے تو حکمران بن جاتا ہے،شاہد خاقان


لاہور:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بالآخر لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اکتوبر میں لانگ مارچ ہوگا۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ را احتجاج پرامن ہو گا، اسلام آباد کسی سے لڑنے نہیں جا رہے، کوئی قانون نہیں توڑیں گے، عدالت نے ہمیں اجازت دی ہوئی کدھر جلسہ کرنا ہے، اگر کسی نے انتشار کیا تو ان کے لوگ کرائیں گے ہم نہیں کریں گے، ہم انشا اللہ پرامن رہیں گے ہم دکھائیں گے قوم کدھر کھڑی ہے، یہ سب کونظر آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعے کولبرٹی چوک لاہور سے اسلام آباد کیلئے لانگ مارچ شروع کررہا ہوں، لبرٹی چوک لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔
میں قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ لانگ مارچ کا مقصد کیا ہے؟ مجھے کہا گیا آپ غیرذمہ دار ہیں ملک مشکل وقت میں ہے لیکن آپ احتجاج کررہے ہیں، میں قوم کویاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب پاکستان ملاتھا بینک کرپٹ پاکستان تھا، زرمبادلہ ذخائر گر کرکے 9 ارب کے قریب تھے۔
ایکسپورٹ پانچ سال سے بڑھی ہی نہیں تھی، ہمیں جو پاکستان ملا اس پاکستان کے اندر سب بڑا کرائسز یہ تھا کہ گرتے روپے کو روکنے کیلئے پیسا نہیں تھا، لیکن دوست ممالک نے مدد کی، پھر کورونا آگیا، اس سے نکلے دنیا نے تعریف کی، اس سے نکل کر 17سال بعد ملک کی سب سے بہتر معاشی گروتھ تھی، ہماری چار بڑی فصلوں کی سب سے زیادہ پیداوار تھی، ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا، بلین ٹری سونامی کی دنیا نے تعریف کی۔
ہمارے دور میں بلاول بھٹو نے 2مارچ کیے ، مولانا فضل الرحمان نے ایک مارچ کیا۔ ہم نے تو کسی کو مارچ سے نہیں روکا، تب تو کسی نے پرواہ نہیں کی کہ پاکستان کتنی مشکل میں ہے۔ ہم نے مارچ پہلے ہی کردینا تھا۔ہم پر 25مئی کو تشدد کیا گیا، اگر اس مارچ کو ختم نہ کرتا تو اگلے دن حالات خراب ہونے تھے۔ اس لیے اس مارچ کو روک دیا۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے ان چوروں کو ہم پر مسلط کیا گیا،پھر ہم نے پرامن احتجاج کیا تو اس پر تشدد کرتے ہیں، مجھ پر مقدمات ، بڑی لیڈرشپ پر مقدمات بنائے گئے۔
میڈیا پر پابندیاں لگائی گئیں، کہیں مثال نہیں ملتی۔ سب سے بڑا جو انہوں نے ارشد شریف کے ساتھ کیا ، ایسا کوئی دشمن سے بھی نہیں کرتا، ارشد شریف کبھی ضمیر کا سودا نہیں کرتا، وہ ہمیشہ ملک کیلئے کھڑا ہوتا تھا۔ اس کو ڈرایا دھمکایا گیا کہ وہ اپنے مئوقف سے ہٹ جائے، میں نے اس کو مشورہ دیا پھر وہ ملک چھوڑ کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے کہ اسلام آباد میں ابھی سے کانپیں ٹانگنا شروع ہوگئی ہیں، سیاسی جماعتیں مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتیں، ہم آج بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن یقین ہوگیا کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے، اب یہ مجھے غیرقانونی طریقے سے انتخابات نکالنے کی کوشش کررہے ہیں، پہلے فارن فنڈنگ میں نااہل کرانے کی کوشش کی، اب توشہ خانہ کیس میں نااہل کرنے کی کوشش کی۔
گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کے باوجود الیکشن نہیں جیتے۔انہوں نے کہا کہ میں واضح کردوں کہ لانگ مارچ جمعے کو صبح 11بجے شروع ہوجائے گا، یہ نہیں کہ میں جمعے کو لانگ مارچ کا اعلان کروں گا، ہماراپرامن احتجاج ہے، تشدد کا راستہ نہیں اپنائیں گے، جی ٹی روڈ سے اسلام آباد جاتے ہوئے لوگ ہمارے ساتھ ملتے جائیں گے، لاکھوں لوگوں کو دیکھ کر پولیس کچھ نہیں کرسکے گی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ لانگ مارچ کا کوئی ٹائم فریم نہیں کہ کب تک جاری رہے گا، مجھے گرفتاری کا کوئی خوف نہیں بیگ تیار کرکے بیٹھا ہوں، خدارا ملک کی فکر کریں ڈیفالٹ کرگئے تو بہت نقصان ہوگا، شفاف الیکشن کے سوا کوئی راستہ نہیں ، مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے۔تاہم انہوں نے ساتھ ہی اسلام آباد انتظامیہ کو چار نومبر کو اسلام آباد میں جلسے کے لئے درخواست بھی دے دی ہے۔
ادھر پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان لانگ مارچ کریں یا جو مرضی کریں حکومت برقرار رہے گی، لانگ مارچ سے حکومت گرانے کی روایت پڑ گئی تو سیاست بچے گی اور نہ ہی جمہوریت ، حکومت کا دفاع کرناریاستی آئینی اداروں کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان لانگ مارچ کریں یا جو مرضی کریں حکومت برقرار رہے گی،عمران خان جو مرضی کریں لانگ مارچ سے حکومت نہیں گرتی، یہ دلی کا تخت نہیں جو وہاں پہنچ گیا تو اس نے قبضہ کرلیا تو حکمران بن جاتا ہے، لانگ مارچ سے حکومت گرانے کی روایت پڑ گئی تو سیاست بچے گی اور نہ ہی جمہوریت ،جو بھی آئینی ریاستی ادارے ہیں حکومت کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔