عمران انتخابات کی تاریخ لینے سے کم پر راضی نہیں جبکہ حکومت نے واضح کیا کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے
قبل ازیں وزیرداخلہ نے کہا تھا کہ عمران نیازی اگر روئیہ سیاستدانوں والا رکھیں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے مناسب جواب نہ ملنے پر آفر واپس لے لی
مارچ ابھی لاہور سے نکلا نہیں لیکن اسلام آباد میں سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی کنٹینر لگ گئے ، وزیراعظم نے امن وامان قائم رکھنے کے لئے رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں تیرہ رکنی کمیٹی قائم

اسلام آباد :عمران خان کا مارچ ابھی لاہور سے نکلا نہیں ہے لیکن اس کے اثرات اسلام آباد تک پہنچ گئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے گزشتہ روز کہا تھ اکہ اگر عمران سیاست دانوں والا روئیہ اختیار کریں تو بات ہو سکتی ہے لیکن عمران خان کی جانب سے لچک نہ دکھائے جانے کے بعد وہ بھی اپنی اس آفر سے ہٹ گئے ، وزیراطلاعات نے بھی کہا کہ ایک چور سے کیسے مذاکرات ہو سکتے ہیں ۔
فیصل واوڈا اور عمران خان بھی آمنے سامنے آگئے ہیں عمران نے الزام لگایا ہے کہ فیصل واوڈا یہ سب کچھ ڈرٹی ہیری کے کہنے پر کر رہے ہیں جبکہ فیصل واوڈا نے جیو نیوز کے پروگرا میں کہا کہ میں سیکورٹی اداروں سے عمران کے کہنے پر ملتا رہا، عمران مجھے کہتے تھے کہ اداروں کی تذلیل کرتے ہیں ہم نے ان کا تحفظ کرنا ہے اور آج انہوں نے اس کے الٹ شروع کر دیا ہے۔
قبل ازیں
اپنے نئے ٹویٹر بیان میں وزیرداخلہ نے عندیہ دیا ہے کہ عمران نیازی اگر روئیہ سیاستدانوں والا رکھیں تو مذاکرات ہو سکتے ہیں،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور مسلم لیگ (ن) نے ٹوئٹر اسپیسس پر لانگ مارچ سمیت مختلف امور پر گفتگو کی ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران نیازی اپنارویہ سیاستدانوں والا رکھے تو بات ہو سکتی ہے لیکن الیکشن موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر ہی ہوں گے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ ارشد شریف کواس وقت قتل کیا گیا جب لانگ مارچ کا آغاز قریب تھا، عمران نیازی کے کنٹینر کے ایک طرف امرباالمعروف کے الفاظ ہیں، ان کیساتھی کان میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ اسلامی ٹچ دیں، یہ سمجھتے ہیں ہم نیک ہیں اورہماریمخالفین بد ہیں۔
لیگی رہنما نے کہا کہ بھارت خوش ہے کہ آج آئی ایس آئی کوبدنام کیاگیا، بھارتی میڈیا پر بیٹھ کران کے اینکرزجشن منارہے ہیں، بھارتی میڈیاچینلزنے عمران خان کوپسندیدہ شخص ڈیکلیئرکیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 25مئی کو پنجاب حکومت مسلم لیگ کی تھی، وفاق نے کردارادا کیا عمران خان سینٹورس سے آگے نہیں جاسکا، یہ ملکی سالمیت اوروفاق کیلئے بہت نقصان دہ صورتحال ہوتی ہے، کیاسرکاری گاڑیوں کااستعمال لانگ مارچ کیلئے جائزہے، کیاصوبوں کی پولیس کی موجودگی اس میں جائز ہے؟انہوں نے کہاکہ یہ لانگ مارچ کس مقصدکیلئے نکالاجارہاہے؟ جس فوج پرتنقید کی جا رہی ہے،اسی نے سیکیورٹی کے انتظامات کئے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لاہورمیں تقریبا2کروڑکے قریب آبادی ہے، عمران خان کالانگ مارچ میں10سے12ہزارکے قریب لوگ ہیں۔ عمران خان نے قوم کوگمراہ کررکھاہے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ وزیراعظم نے لانگ مارچ کاجائزہ لینے کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ ملکرفیصلے کرتی ہیں،عمران خان عجیب آدمی ہے جونہ سیاست کوسمجھتا ہے نہ جمہوریت کو، یہ اپنارویہ تبدیل کرے سیاسی جماعتوں کیساتھ آکربیٹھے، ملک سیلاب کی تباہی سے دوچار ہے، معاشی بدحالی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم لوگوں کی ناراضگی کو خوشی اور پیارمیں بدلیں گے، چاہتے تھے کہ ہم الیکشن میں جائیں،عمران نیازی اپنارویہ سیاستدانوں والارکھے توبات ہوسکتی ہے، بیٹھ کربات کریں،اسکے بعدپاکستان کی بہتری کا سامان پیدا ہوگا۔
تاہم وزیر داخلہ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ الیکشن موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے پرہونگے۔

