گورنمنٹ بوائز سکول لیراں مندری کی زلزلے سے تباہ ہونیوالی عمارت 12سال بعد بھی تعمیر نہ ہوسکی

چڑالہ ….گورنمنٹ بوائز سکول لیراں مندری کی زلزلے کے دوران تباہ ہونیوالی عمارت 12سال بھی تعمیر نہ ہوسکی جبکہ سکول کے طلبہ و طالبات سخت گرمی اور شدید سردیوں میں کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور جبکہ بارشوں کے دوران طالبات گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتی ہیں جبکہ ٹھیکیداروں نے بچی کچھی عمارت کو تباہ کیے اور غائب ہوگئے سکول کی عمارت اور طلبا ء طالبات کسی مسیحا کے منتظر حلقہ کے ایم ایل اے سردار عتیق احمد خان عوام کے مسائل سے بے خبر اور حلقہ سے غائب اپوزیشن کو سانپ سونگھ کیا عوام کے مسائل کو اٹھانے میں ناکام#محکمہ_تعلیم_کی_غفلت
2005ء کے زلزلے میں تباہ ہونے والا #گورنمنٹ_بوائزسکول(لیراں) مندری تو تعمیر ہونے سے رہا….
اور 2 استادوں میں سے بهی ایک استاد کو غائب ہوئے 8 ماہ ہو گیا.استاد کا نام سجاد اکبر ولد سید اکبر دھیرکوٹ کا ہے
#ڈی_او صاحب اور #اے_ای_ہو صاحب کو بار بار مطلع کیا گیا.. اخبار کےذریعے استاد کی حاضری کا مطالبہ کیا گیا لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ ریگی….
ہم آخری بار جناب سرپرست محمکہ تعلیم سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتے ہیں خدارہ سینکڑوں بچوں کا مستقبل داو پر لگا ہے..انکا مستقبل بچایا جائے..استاد جو آپ کی ملی بھگت سے گهر بیٹھ کر تنخواہ وصول کر رہا ہے اسے بھی واپس بھیجا جائے اور سکول بلڈنگ کا انتظام بھی کیا جائے.ورنہ سخت اقدامات کئے جائیں گے. زلزلہ کے دوران آنے والے 55ارب جن سے سکولوں کی عمارتیں تیار ہونا تھی صدر زرداری نے وہ رقم غائب کردی اور آزادکشمیر میں سکول تعمیر نہ ہوسکے جبکہ سابق اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان جو اپوزیشن میں رہتے ہوے 55ارب واپس لانے کی بات کرتے تھے وہ بھی وعدہ بھول گئے عوام نے وزیراعظم آزادکشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ 55ارب روپے واپس لا کر سکولوں کی تعمیر کے حوالےسے اقدامات کیے جائیں