عمران کی گرفتاری پر د ن کو پی ڈی ایم کے کارکنوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے
شام کو پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلا کر ٹریفک جام کر دی ، فیصل آباد میں وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر پتھرائو
رات کو مختلف شہروں میں انٹر نیٹ سروس بھی بند ،رات دیر گئے تک ملک افواہوں کی زد میں رہا،بیرون ملک پاکستانیوں کی تشویش

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو نیب نے القادر ٹرسٹ کیس میں کرپشن پر رینجرزکی مدد دے اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتار کر لیا ہے گرفتار ی کے بعد انہیں نیب راولپنڈی منتقل کیا گیا اور کل 10 مئی کو انہیں نیب عدالت میں پیش کی جائے گا اور ان کا جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔ عمران کی گرفتار دن کو عمل میں آئی تھی ان کی گرفتاری کے خلاف منگل اور بدھ کی درمیانی رات مظاہرے پھوٹ پڑے ،پی ٹی آئی کارکنوں نے ملک کے مختلف شہروں میں اہم شاہرائوں پر ٹائر جلا کر انہیںبند کر دیا جس سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔رات گئے تک ملک افواہوں کی زد میں رہا لیکن آخری خبریں آنے تک حالات کنٹرول میں تھے۔ رات گئے ملک کے بڑے شہروں میں انٹر نیٹ سروس بند کر دی گئی ۔
منگل کو عمران خان مختلف کیسز میں ضمانت کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ آئے تھے کہ اچانک پولیس اور رینجرز کی بھار ی نفری نے انہیں گرفتار کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو نیب نے القادر ٹرسٹ کیس میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی وجہ سے گرفتار کیا ہے ۔
عمران کی گرفتار ی پر دن کو ان کے مخالفین نے خوشیاں منائی اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ جبکہ شام کو پی ٹی آئی کارکنوں نے کئی مقامات پر ٹائر جلا کر ٹریفک جام کر دی۔
نیب ذرائع کے مطابق نیب نے کئی بار عمران کو پیشی کے لئے نوٹس کئے لیکن انہوں نے نوٹسز کا جواب دیا اور نہ نیب میں پیش ہوئے۔ جس پر انہیں گرفتار کرنے لے لئے رینجرز کی مدد لی گئی۔
دوسری طرف چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قراردیا ہے ۔عمران کی گرفتاری کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے نوٹس لیا اور اس سلسلے میں سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا جو رات دیر گئے سنا دیا گیا ہے اور عدالت نے عمران خان کی گرفتار ی کو قانونی قراردیا ہے آخری خبریں آنے تک سنایا نہیں گیا تھا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے آئی جی پولیس سے سوال کیا کہ احاطہ عدالت سے کتنے افراد کو گرفتار کیا ہے یا کرایا گیا ؟ جس پر آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ دو گھنٹے سے عدالت میں ہوں اس کا علم نہیں۔ چیف جسٹس نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی عمل نہ کریں جو غیرقانونی ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گرفتاری غیرقانونی ہوئی تو متعلقہ شخص کو رہا کرنا ہوگا۔
اس سے قبل چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ گرفتاری کرتے وقت نیب تو نہیں تھی۔ اگر قانون کے مطابق نہیں ہوا تو مناسب آرڈر پاس کریں گے ، اگر قانون سے ہٹ کر کچھ ہوا ہے تو بھگتنا پڑے گا۔وارنٹ پر عملدرآمد ہو گیا لیکن اس عدالت کے اندر ہوا ہے، مجھے اپنے آپ کو مطمئن کرنا ہو گا کہ ہائیکورٹ میں کیا ہوا، اگر کوئی کارروائی کرنی ہے تو قانون کے مطابق کرنی ہو گی،وکلا پر حملہ میرے ادارے پر حملہ اور مجھ پر حملہ ہے، مجھے نہیں معلوم کہ نیب اس طرح بھی گرفتار کر سکتی ہے یا نہیں۔آنکھیں بند کرکے غیر قانونی عمل پر خاموش نہیں رہوں گا۔ وفاق اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ نہیں سکتا۔ گرفتاریوں کے حوالے سے قانون واضح ہے۔اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو پھر آرڈر دوں گا ۔اس بار ہائیکورٹ پر حملہ کرکے گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ ہائیکورٹ کے انسٹیٹیوشن برانچ میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔گرفتاری کے لیے کیا ہائیکورٹ ہی ملی تھی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم باہر ہوتے تو مزاحمت زیادہ ہوتی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے آج جو معاملہ ہوا قابل معافی نہیں،میں اس کی تہہ تک جائوں گا۔اس دوران عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا جو رات گئے سنایا گیا اور عدالت نے ان کی گرفتاری قانونی قراردی ہے۔
اس موقع پر عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو سر اور ٹانگ پر مارا گیا۔عمران خان کو گرفتار کرنے اور تشدد کرنے والے رینجرز اہلکار تھے۔مراد سعید نے دعوی کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو تشدد کر کے گرفتار کیا گیا جبکہ فواد چوہدری نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پر رینجرز نے قبضہ کر لیا،وکلا کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور عمران خان کی گاڑی کے گرد گھیرا ڈال لیا گیا۔
۔دوسری جانب جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دئیے کہ ہائیکورٹ کی حدود کے اندر سے عمران خان کو گرفتار کیا گیا،گرفتاری کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے شیشے بھی توڑے گئے۔
عمران خان کا طبی معائنہ کیا گیا اور انہیں صحت مند قراردیا گیا ہے ۔وزیر داخلہ رانا ثنائ اللہ کا کہنا تھا کہ عمران گرفتاری قانونی ہے۔



