پھلڑے سیداں سوہاوہ میں وکیل کی اراضی پر قبضے کی کوشش

ایس ایچ او سوہاوہ ملزمان کی پشت پناہی کرنے لگا، مقدمہ درج کرنے سے گریز

پولیس کو دی جانے والی درخواست کا عکس


اسلام آباد:پھلڑے سیداں کے رہائشی وکیل سید مبشر علی کاظمی نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ شر پسند عناصر میری زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جن کی پشت پناہی ایس ایچ او سوہاوہ کر رہے ہیں۔روزنامہ سی پیک سے فریاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 26 جولائی کو دن ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ملزمان آتشین اسلحہ سے لیس ہوکر میرے فش فارم اور ملحقہ اراضی پر قبضہ کے لئے آئے جس کی اطلاع میں نے اسی روز درخواست کی صورت میں ایس ایچ او سوہاوہ کو دی لیکن تاحال اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی ہے اور ایس ایچ او سوہاوہ ملزمان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
مبشر کاظمی نے بتایا کہ انہوں نے تھانہ سوہاوہ کو دی جانے والی درخواست میں واضح کیا ہے کہ میں نے پھلڑے سیداں میں اپنے ڈیرہ سے ملحقہ اراضی خسرہ نمبر 1286 ،میں ڈیم اور فش فارم بنا رکھا ہے ۔ڈیم سے ملحقہ خسرہ نمبرات 1289.1290 بھی سائل کے جدہ قبضہ میں ہیں ۔مذکوہ خسرات نمبرات کا عکس مساوی و فرد جمع بندی منسلک ہے۔ مورخہ 26 جولائی کو قریبا دن ساڑھے گیارہ بجے محمد علی اور اس کے ہمراہ تین نامعلوم افراد جوآتشین اسلحہ ریپٹر سے مسلح تھے۔ان کے ہمراہ سہیل شاھین ، شاھین کے دونوں برادر اسحاق اور بائو اور شاھین کے دونون بھتیجے جن کو سامنے آنے پر شناخت کرسکتا ہوں ہمراہ تیمور اور دیگر 15 سے 20 نامعلوم افراد میرے ڈیم کوتوڑنے کے لئے آگئے۔
سہیل جو محمد علی کا ذاتی ٹریکٹر بلیڈ فرنٹ والا چلا رہا تھا۔جن کو سائل نے مرزاء امرسلین، چودھرہ خالد حسین، محسن بھٹی کی موجودگی میں میرے ڈیم کو توڑنے مالی نقصان کرنے سائل کی اراضی پر قبضہ کی کوشش سے منع کیا تو محمد علی ،حیدری اور دیگر نامزد ملزمان نے کہا کہ اگرا گے آنے کی کوشش کی تو تم کو گولی مار کر جان سے ماردیں گے ۔ جس پر سائل نے 15 پر کال کر کے پولیس سے مدد مانگی پولیس بارے اطلاع پر ملزمان موقع پا کر جنگل کی طرف فرار ہوگئے۔پولیس بروقت موقع پر آئی لیکن موقع خالی دیکھ کر پولیس واپس چلی گئی بعدازاں ملزمان دوبارہ اکٹھے ہوئے اور سائل کے ڈیم کو توڑنا شروع کردیا۔ جس پر سائل نے دوبارہ 15 پر کال کی پولیس کی آمد کی اطلاع پر ملزمان موقع سے فرار ہوگئے ۔
مبشر کاظمی نے بتایا کہ محمد علی وغیرہ کی جانب سے مسلح ہو کر آنے اور ڈیم کو نقصان پہچانے کی ویڈیوزمیرے پاس موجود ہیں لیکن پولیس ملزمان کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہے۔