غزہ کے اسپتال پر اسرائیلی فوج کی بمباری میں 500 فلسطینی شہید،امریکہ نے اسرائیل کو کلین چٹ دے دی برطانیہ بھی اسرائیل کی فتح کا حامی
اسلام آباد)رپورٹ :محمدرضوان ملک (فلسطین کے شہر غزہ میں اسرائیل کی جانب سے وحشیانہ بمباری جس کے نتیجے میں 500 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے تھے اس کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں اور پوری دنیا اس کی مذمت کر رہی ہے لیکن امریکہ اور برطانیہ حسب روایت ڈٹ کر ڈھٹائی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ۔امریکی صدر اس ظالمانہ بمباری کے بعد نہ صرف اسرائیل سے اظہار یکجہتی کے لئے اسرائیل کے دورے پہنچے ہیں اور اس حوالے سے اسرائیل کو کلین چٹ دے دی ہے۔ جیو بائیڈن کے بعد برطانوی وزیراعظم رشی سونک بھی اسرائیل سے اظہار یکجہتی کے لئے گزشتہ روز تل ابیب پہنچ گئے ۔انہوں نے دورے کے امریکی صدر کو ایک قدم پیچھے چھوڑتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اس جنگ میں آپ کی کامیابی کا خواہشمند ہے۔
دوسری طرف اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی بنیاد پر جنگ بندی کیلئے پیش کی گئی برازیل کی قرارداد بھی امریکہ نے ویٹو کر دی ہے ۔قبل ازیں امریکہ اس حوالے سے روس اور برازیل کی پیش کردہ قرارداب بھی ویٹو کر چکا ہے
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ شہر کے الاحلی اسپتال کو نشانہ بنایا گیا جہاں 10 روز سے جاری اسرائیلی بمباری میں زخمی ہونے والے شہریوں کو مسلسل طبی امداد کیلئے لایا جارہا تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسپتال پر ہونے والے حملے میں کم از کم 500 افراد شہید ہوئے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول میں موجود پناہ گزینوں کو بھی نشانہ بنایا۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کے الاحلی اسپتال پر فضائی حملے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ غزہ میں حماس حکومت کے میڈیا آفس نے اسپتال پر حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔
دریں اثنا فلسطین کی مزاحمت کار تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر پر اسرائیلی فورسز نے فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہوگئے۔
فلسطین کے محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ غزہ شہر میں واقع شیخ ردوان میں اسماعیل ہنیہ کا گھر تھا جس کو اسرائیلی فورسز نے نشانہ بنایا۔ میزائل حملے کے نتیجے میں ان کی فیملی کے 14 افراد شہید ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں قطر میں مقیم حماس کے سربراہ کے بھائی، بیٹے اور بھانجے کی بھی شہادت ہوئی ہے۔
پاکستان سمیت عالمی برادری نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں اسپتال کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب، اردن، سمیت کئی ممالک نے بھی اسپتال پر حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
لیکن امریکہ نے اسپتال پر راکٹ حملے کا ذمہ دار اسلامی جہاد کو قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو کلین چٹ دے دی ہے۔
اسپتال پرحملے میں 500 فلسطینیوں کی شہادتوں کے اگلے ہی روز امریکی صدر جوبائیڈن صیہونی ریاست کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل پہنچ گئے۔
جہاں وزیراعظم نیتن یاہو نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماوں نے دو بدو ملاقات بھی کی جس میں غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اور صدر جوبائیڈن اس سفاکانہ عمل پر اسرائیل کی مذمت کرنے کے بجائے اظہار یکجہتی کرنے پہنچ گئے۔امریکی صدر نے ملاقات میں اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی اور خارجہ معاملات میں بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جب کہ حماس کے حملے میں مارے جانے والے 1700 سے زائد اسرائیلیوں کی اموات پر نیتن یاہو سے تعزیت بھی کی۔تاہم امریکی صدر نے اسرائیل کی بمباری میں شہید ہونے والے 3 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادتوں جن میں ایک ہزار سے زائد بچے اور خواتین بھی شامل ہیں پر مجرمانہ چپ سادھے رکھی۔
امریکا اسرائیل گٹھ جوڑ کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے کہا کہ اسپتال میں حملے میں اسرائیل نہیں بلکہ دوسری قوت ملوث ہیں۔ ان کا اشارہ حماس کی جانب تھا۔
قبل ازیں اسرائیلی فوج نے بھی یہی دعوی کیا تھا کہ متعدد انٹیلی جنس ذرائع سے پتا چلا ہے کہ حماس کی اتحادی تنظیم اسلامی جہاد کے راکٹس نشانہ چوک گئے اور اسپتال کو جا لگے۔
دوسری طرف امریکا کی جانب سے اسرائیل کے لیے بھیجے جنگی طیارے بردار بحری جہاز نزدیکی ساحل تک پہنچ گیا ہے جب کہ ایک اور بحری بیڑہ بھی جلد روانہ کیا جائے گا
امریکا نے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی دوسری قرارداد بھی ویٹو کر دی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بدھ کو اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد برازیل نے پیش کی جو امریکا کے ویٹو کرنے کے بعد ناکام ہوگئی۔برازیل کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی اور انسانی امداد کی ترسیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد پر 12ارکان نے حمایت میں ووٹ دیے، ووٹنگ میں روس اوربرطانیہ غیرحاضر رہے جبکہ امریکا نے دوسری بار سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کیا۔اس سے قبل روس اور برازیل نے جنگ بندی کی قرارداد پیش کی تھی جو ویٹو کر دی گئی تھی۔
تاہم صدر بائیڈن اور ان کی اسرائیل پالیسی کو ایک زبردست جھٹکا اس وقت لگا جب امریکی محکمہ خارجہ کے سینیئر اہلکار جوش پال نے بائیڈن کی غزہ پالیسی کے خلاف احتجاجا استعفی دے دیا۔
اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی پر اعتراض کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کے سینیئر اہلکار جوش پال کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کی ایک فریق کی اندھادھند حمایت غیرمنصفانہ اور تباہ کن ہے جو امریکی اقدار کے خلاف پالیسی فیصلوں کا سبب بن رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جوکچھ ہو رہا ہے اسے وہ بدل نہیں سکتے تھے، اس لیے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا،گزشتہ 10 رو ز سے صورت حال دیکھ رہے تھے اور خود کو بے اختیار محسوس کر رہے تھے۔اس لئے احتجاجا مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔


