G/14 کے متاثرین کوظالمانہ طریقے سے بے گھر کیا جارہا ہے ،واجد گیلانی

گوگل نقشے کو نہیں مانتے اس میں اغلاط کی بھرمار ہے، فراڈ اتھارٹی کو ختم کیا جائے ساجد شاہ گیلانی
اسلام آباد:اسلام آباد کے علاقے جی 14 متاثرین کے راہنما سید ساجد شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ مقامی لوگوں کو غیر قانونی طور پر بے گھر کیا جا رہا ہے۔2004 ء کے بلڈ اپ پراپرٹی ریٹس کو نہیں مانتے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاوسنگ اتھارٹی کے کرپٹ افسران اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو غلط نمبرنگ کر کے فائدہ دے رہے ہیں۔
2005 کا ایوارڈ غیرآئینی ہے مقامی لوگوں کے حقوق کو سلب کیا جا رہا ہے، گوگل نقشے کو بنیاد بنا کر سات بندوں کو ایک پلاٹ دیا جا رہا ہے، یہ عدالتوں میں جا کے کہتے ہیں کہ متعلقہ جگہ ایکوائر نہیں ہے جبکہ دوسری طرف اسے غیر قانونی قرار دے کر مکانات گرائے جا رہے ہیں اس سے بڑا فراڈ اور کیا ہو سکتا ہے، ایسی فراڈ اتھارٹی کو ختم کیا جانا چاہیے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںجی 14 کے دیگر متاثرین سید واجد علی گیلانی ایڈووکیٹ، سید رفاقت حسین شاہ بلال شاہ و دیگر کے ہمراہپریس کانفرنس کرتے ہوئے سید ساجد شاہ گیلانی کا مزید کہنا تھا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ اتھارٹی کے افسران ہماری زمینوں پر بزنس کر رہے ہیں۔
2023 میں 2005 کے ریٹ پر ادائیگیاں کی جا رہی ہیں جو قبول نہیں ہیں،مقامی لوگوں کے گھروں کو گرا کر انہیں بے گھر کیا جا رہا ہے،جھوٹے مقدمات قائم کرکیانہیں گرفتار کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایوارڈ 2023 میں دے رہے ہیں تو پھر معاوضہ 2005 کے حساب سے کیسے دیا جا سکتا ہے ہمارے ساتھ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاوسنگ اتھارٹی کا ظلم بند کیا جائے۔
ڈیپوٹیشن اور دیہاڑی لگانے والے افسران کرپشن کے بے تاج بادشاہ ہیں،ہر آباد گھر کو اسی سیکٹر میں پلاٹ دیا جائے،ہاوسنگ فاونڈیشن کا کالا قانون نا منظور ہے، غیر قانونی متنازعہ گوگل طریقہ کار ختم کیا جائے، جوائنٹ نمبر الگ کیے جائیں،سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ پر عمل درآمد کیا جائے اور موجودہ مارکیٹ ریٹ پر معاوضہ دیا جائے، انہوں نے وزیر اعظم،چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ وہ انکے جائز مطالبات پورے کرتے ہوئے انہیں انصاف مہیا کریں ۔