محمد نواز رضا
ڈاکٹر جمال ناصر راولپنڈی کی سیاست کا وہ تابندہ تارہ ہے جو بیک وقت شہر کا مسحیا ہے اورشہر کی سیاست کا نبض شناس۔ممکن ہے کل تک اسے اپنی شناخت کے لئے کسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی لیکن اس نے چند ماہ میں پنجاب کی نگران حکومت میں اپنا سیاسی پرو فائل اس قدر بلند کر دیا جو لوگ سالہاسال کی محنت و کاوش کے باوجود حا صل نہیں کر پاتے انہوں نے محنت و لگن سے اپنی وزارت پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیرڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب میں شاندار کارکردگی کا ہمالیہ کھڑا کر دیا ہے اور اپنے بعد آنے والوں کے لئے ایک مثال چھوڑ گئے ہیں۔
میں ڈاکٹر جمال ناصر کو 4 عشروں سے جانتا ہوں انکے عظیم والد نثار احمد نثار سے دوستی تھی وہ ہر روز میری دعائوں کا محور ہوتے ہیں۔والد کی سیاسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ جمال ناصر ایک کامیاب مسیحا و سیاست دان ہیں ان کی ڈکشنری میں ناممکن کالفظ نہیں وہ جس کام کا بیڑہ اٹھاتے تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔
ہفتہ کی شب روزنامہ جنگ راولپنڈی کے سینئرفوٹو گرافر ذوالفقار علی خان زلفی کی دعوت ولیمہ میںان سے ملاقات ہوگئی جب ان کی نظر مجھ پر پڑی تو میری طرف لپک کرآئے اور گلے لگا لیا ایسے لگا جیسے ملاقات ہو ئے کئی سال بیت گئے ہوں۔
جب سے انہوں نے نگران وزارت کا طوق اپنے گلے میں ڈالا ہے ان کا بیشتر وقت لاہور میں گذرتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ راولپنڈی کی سماجی تقریبات میں شرکت کو یقینی بناتے ہیں وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے دن رات کام کرنے کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے ڈاکٹر جمال ناصر ان کی ٹیم کے متحرک رکن ہیں وہ چار ماہ بعد وزارت چھوڑیں گے تو لوگ ان کی طب کے میدان میں خدمات کو یاد کریں گے۔
اپنی وزارت کے دوران انہوں نے پنجاب کی 43 جیلوں کے 52 ہزار قیدیوں کے فری ہیپاٹائٹس، بی ، سی ،ایڈز ٹی بی ، پھیپھڑوں ذیابیطس اور خون کی کمی کے ٹیسٹ ،جنرل میڈیکل چیک اپ ،ویکسینیشن اور مکمل علاج کرا یا
پنجاب کی جیلوں کے لئے ماضی میں 45 کروڑ روپے میں خریدے گئے طبی آلات جن کی اب مالیت ڈیڑھ ارب سے زائد ہے گذشتہ 8 ماہ سے ڈمپ پڑے تھے ان کو ہسپتالوں میں تقسیم کرایا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر جمال ناصر ، شہر کا مسیحا اور سیاست کا نبض شناس




