ہاکی کے شیدائی اورسیز پاکستانی ناصر عباس پاکستانی ٹیم کو سپورٹ کرنے ملائشیاء پہنچ گئے

بچپن سے جنون کی حد تک ہاکی کا شوق ہے، خود بھی کھیلتا رہا، کوچنگ بھی کی،دنیا میں کہیں بھی ہاکی کھیلی جارہی ہو خود کو روک نہیں پاتا،خصوصی گفتگو

ہاکی کی دنیا پر برسوں حکمرانی کرنے کے بعد آج پاکستان میں ہاکی زوال کا شکار ہے۔لیکن ماضی میں ہاکی سے محبت کرنے پاکستانیوں کی ہاکی سے لازوال محبت اب بھی برقرار ہے۔وہ ہاکی کے میچ دنیا میں کہیں بھی ہوں دیکھنے پہنچ جاتے ہیں۔
ہم آپ کی ملاقات ہاکی کے ایک ایسے شیدائی سے کروا رہے ہیں۔جنہیں ہاکی سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے وہ ہاکی کے میچز دنیا میں کہیں بھی ہورہے ہوں اپنی ساری مصروفیات ترک کے میچ دیکھنے پہنچ جاتے ہیں اور خاص کر جب اس ٹورنامنٹ میں پاکستان بھی کھیل رہا ہو تو ان کا جنون دیکھنے والا ہوتا ہے
ایسے ہی ہاکی کے ایک شیدائی ہالینڈسے تعلق رکھنے والے ناصر عباس ہیں۔ناصر عباس پیشے کے لحاظ سے انجنئیر ہیں اور آج سے چوالیس سال قبل1977 ء میں روز گار کے سلسلے میں ہالینڈمنتقل ہوگئے تھے اور پھر وہیں کے ہو کے رہ گئے۔
ان دنوں ناصر عباس بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ ہاکی کا جونئیر ورلڈ کپ دیکھنے ملائشیاء کے شہر کوالالمپور آئے ہوئے ہیں۔جہاں ہم نے ان سے بات چیت کی ہے جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔
ناصر عباس نے بتایا کہ وہ شروع سے ہاکی کو بہت پسند کرتے تھے۔ کراچی سے ہاکی کا آغاز کیا اور پھر ہالینڈ پہنچ کر بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔انہوں نے بتایا کہ ہالینڈ میں وہ ایمسٹرڈیم کے قریب ایک گاؤ ں میں رہتے ہیں اور وہاں کے ایک کلب المیس کی طرف سے ہاکی کھیلتے رہے اس کلب سے نہ صرف میں نے بلکہ میرے بیٹے نے بھی ہاکی کھیلی ہے۔ ناصر عباس نے بتایا کہ وہ ہالینڈ میں ہاکی کوچنگ بھی کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس جونئیر ورلڈ کپ کے دوران میرے دوستوں نے مجھے یہاں آنے کی دعوت دی جس پر میں یہاں آیا تو مجھے بہت اچھا لگاکیونکہ ٹیم بھی کافی عرصے بعد اچھی فارم میں تھی۔ ٹیم نے اچھی ہاکی کھیلی اور کواٹر فائنل کے لئے کوالیفائی کیا۔ جو بڑی خوش آئند بات ہے۔ گو بدقسمتی سے ہم کواٹر فائنل میں سپین سے ہار گئے لیکن پاکستان نے اچھی ہاکی کھیلی۔
اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان میں ہاکی زوال کا شکار کیوں ہوئی ناصر عباس نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ تو ملک میں کھیل کی سہولیات کا ناکافی ہونا ہے۔ ملک میں آسٹو ٹرف کی کمی ہے میں ہالینڈ کے جس چھوٹے سے گاؤں میں رہتا ہوں وہاں آٹھ آسٹرو ٹرف اور دو ہاکی کلب ہیں۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں میں فٹنس کی بھی کمی ہے۔ اس کے علاوہ آسٹرو ٹرف آنے کے بعد کھیل میں تیزی آگئی ہے۔ کچھ تکنیکی مسائل بھی ہیں۔اب دو کی بجائے چار ہاف ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری انٹرنل سٹریکچر بھی کچا ہے۔اس وقت ہماری مینجمٹ اچھی ہے اور اس نے تنائج دئیے ہیں۔انہوں نے کہا باہر کے کوچ سے بہتر ہمارا اپنا کوچ ہو سکتا ہے کیونکہ ہمارے پاس بڑے کھلاڑی ہیں اور ملک کے لئے خدمات دینا بھی چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد پاکستانی ہاکی میں اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر لے گا۔بقول شاعر ذرانم ہوتو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔