
اسلام آباد:جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم کا الزام عائد کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرلیا ہے۔ قطری نشریاتی ادارہ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ نے 29 دسمبر کو اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں درخواست دائر کی۔درخواست میں جنوبی افریقہ نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی قرار دیا۔جنوبی افریقہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا مقصد فلسطینی قوم اور نسل کو تباہ کرنا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں کو قتل کرنا، انہیں شدید جسمانی اور ذہنی اذیت پہنچانا ہے۔
عالمی عدالت انصاف کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی افریقا نے اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔جنوبی افریقا نے عالمی عدالت انصاف سے اسرائیل کے خلاف مقدمہ چلانیکی درخواست کی ہے۔
جنوبی افریقا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی اقدامات نسل کشی ہیں، اسرائیلی فوج غزہ میں فلسطینیوں کو جان بوجھ کر قتل کر رہی ہے اور غزہ کے بڑے حصے کو تباہ کردیا گیا ہے، اسرائیل کی جانب سے طاقت کے اندھا دھند استعمال کا مقصد فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنا ہے، اسرائیل کا یہ عمل نسل کشی کنوشن کی خلاف ورزی ہے۔
جنوبی افریقا کی جانب سے غزہ میں موجود فلسطینیوں کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درخواست کی گئی ہے کہ اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب قرار دے کر مقدمہ چلایا جائے اور اسے مزید کارروائیوں سے روکا جائے۔
جنوبی افریقا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم کی مسلسل اطلاعات ہیں، اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور امکان ہے کہ اسرائیلی جرائم میں مزید اضافہ ہوگا۔
فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ پر 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں 21 ہزار 507 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔جبکہ 55 ہزار 915 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں، غزہ میں صحت کی سہولیات کو اسرائیلی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے جس کے باعث ذخمیوں کے علاج میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ غزہ پر جارحیت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر جنوبی افریقا پہلے ہی اسرائیل سے اپنے سفارتی عملے کو واپس بلا چکا ہے۔گزشتہ دنوں جنوبی افریقا کی وزیر خارجہ نے غزہ میں جاری وحشیانہ کارروائیوں پر اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا تھا۔انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ فلسطینیوں کے لیے اسرائیلی پالیسیاں نسل پرستی کے مترادف ہیں۔




