
اسلام آباد: او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی اور تکنیکی تعاون کامسٹیک اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے بدھ کو کامسٹیک سیکرٹریٹ میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔کامسٹیک اور پی ای سی نے انجینئرنگ اور صحت کے شعبوں اور اختراعات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیشہ ور افراد کے علم اور مہارت کو بڑھانے کے لیے ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں کے انعقاد میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے معلومات کو علم میں تبدیل کرنے اور طب اور انجینئرنگ کے طریقوں میں سائنسی اور شماریاتی اصولوں کو لاگو کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے صنعتی، طبی اور زرعی مصنوعات اور خدمات کے لیے ٹیکنالوجی کی ترقی اور منتقلی کے لیے او آئی سی کے اتحادی پلیٹ فارمز کے ذریعے اپلائیڈ ٹیکنالوجی پر خصوصی زور دینے کے ساتھ پالیسیوں کو فروغ دینے اور تیار کرنے پر اتفاق کیا، مقامی مسابقت کے لیے او آئی سی اداروں کے روابط پیدا کرنے، مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی باہمی تجارت کو فروغ دینے، سافٹ ویئر ، ماہرین کی نقل و حرکت اور ہنر کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا۔ پی ای سی کے مختلف اداروں میں او آئی ی انجینئرز کی تربیت اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے انجینئرنگ کے فروغ کے لیے کامسٹیک پی ای سی افریقہ پروگرام شروع کرنا اس مفاہمت نامے کا حصہ ہے۔
فریقین نے مصنوعی ذہانت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے او آئی سی ریاستوں میں ڈیجیٹل مصنوعات اور سافٹ ویئر کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ او آئی سی ریاستوں میں نتائج کی بنیاد پر انجینئرنگ کی تعلیم کی علاقائی اور عالمی شناخت حاصل کرنا، جیسا کہ واشنگٹن ایکارڈ پر دستخط کنندہ کا درجہ اور انجینئرنگ کی منظوری اور ممبر ممالک کی رجسٹریشن/لائسنسنگ باڈیز/انجینئرنگ کونسلز کو سہولت فراہم کرنا اس مفاہمت نامے کے مقاصد میں شامل ہے۔
اس مفاہمت میں مشترکہ صلاحیت سازی کی تقریبات کا انعقاد، مہارت اور وسائل کا اشتراک، تحقیق و ترقی کے اقدامات میں تعاون، صنعتی تحقیق و ترقی اور انجینئرنگ وسائل کی نقل و حرکت، انسانی وسائل کے ڈیٹا بیس ، اور اسلامی ممالک کے فیڈریشن آف انجینئرنگ انسٹی ٹیوشنز کی رکنیت حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرنا بھی شامل ہیں۔
یاداشت پر کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری اور کونسل کے سیکرٹری/رجسٹرار انجینئر نے دستخط کیے۔ ڈاکٹر ناصر ایم خان، انجینئر محمد نجیب ہارون چیئرمین پی ای سی اور دونوں اداروں کے اعلی حکام بھی اس تقریب میں موجود تھے۔



