تحریک انصاف نے از خود نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہم خیال ججز کی بجائے فل کورٹ تشکیل دیا جائے
اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لکھے گئے خط کے معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی بنچ تشکیل دے دیا ہے جس کی پہلی سماعت بدھ تین اپریل کو ہورہی ہے۔ قبل ازیں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے اس حوالے سے بنائے گئے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی تھی۔ جبکہ تحریک انصاف نے از خود نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہم خیال ججز کی بجائے اس کی سماعت کے لئے فل کورٹ تشکیل دیا جائے ۔
سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ججز کے خط کے معاملے پر پرنسپل سیٹ اسلام آباد پر موجود تمام ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے، 7 رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی کریں گے۔بینچ میں شامل دیگر ججز میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل ہیں۔
سپریم کورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے کی سماعت بدھ کو کریگی۔
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے چند روز قبل سپریم جوڈیشل کونسل کو ایک خط میں عدالتی معاملات میں دخل اندازی کا معاملہ اٹھایا تھا۔خط میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ ہم جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے مقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو انڈر مائن کرنے والے کون تھے؟اس معاملے پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سے سپریم کورٹ میں ملاقات کر کے کمیشن تشکیل دینے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی پر مشتمل کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دی گئی تھی۔
تاہم جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کی جانب سے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سات رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔
دوسری طرف پی ٹی آئی نے ہم خیال ججز پر مشتمل بینچ مسترد کرتے ہوئے فل کورٹ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی نے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم خیال ججوں کے بجائے کیس کی فل کورٹ سماعت کی جائے اور عدالتی کارروائی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کی جائے۔سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رف حسن نے توشہ خانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سزا کی معطلی کو امید کی کرن قرار دیا۔تاہم انہوں نے مزید کہا کہ سزا کو یکسر منسوخ کر دیا جانا چاہیے تھا کیونکہ یہ کیس سیاسی انتقام پر مبنی تقریبا 200 غیرسنجیدہ، بوگس مقدمات میں سے ایک ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی 7 رکنی بینچ قبول نہیں کرے گی کیونکہ چیف جسٹس نے اپنی پسند کا فیصلہ کرنے کے لیے ہم خیال ججز پر مشتمل بینچ تشکیل دیا ہے، جس کو پی ٹی آئی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات فل کورٹ کے ذریعے کرائی جائیں اور عدالتی کارروائی براہ راست نشر کی جائے، ایک جوڈیشل کانفرنس بھی طلب کی جائے جہاں تمام ججز کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ تصدق حسین جیلانی ایک قابل اعتبار شخص ہیں، انہوں نے ایک رکنی انکوائری کمیشن کی سربراہی سے دستبرداری کا درست فیصلہ کیا ہے۔
روف حسن نے کہا کہ تصدق حسن جیلانی نے خط میں کہا ہے کہ ججوں نے خط میں سپریم جوڈیشل کونسل اور اس کے چیئرمین چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کیا ہے، لہذا یہ عدالتی وقار کی خلاف ورزی ہوگی کہ ایسے معاملے کی انکوائری کروں، جو سپریم جوڈیشل کونسل یا سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سابق جج نے پی ٹی آئی کے موقف کی تائید کی ہے کیونکہ پی ٹی آئی بھی یہی کہہ رہی ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور فل کورٹ کے ذریعے تحقیقات ہونی چاہیے۔
روف حسن نے وکلا برادری اور بار ایسوسی ایشنز کو ان کے متفقہ موقف پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ وہ اسی طرح دبائو ڈالیں گے تاکہ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان، دیگر رہنماں اور کارکنان کو گزشتہ 23 ماہ کے دوران مسلسل بربریت اور فسطائیت کا نشانہ بنایا گیا لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی نے عدالتوں پر سے کبھی اعتماد نہیں کھویا۔
انہوں نے کہا کہ عدالتوں کو عملا کینگرو کورٹس میں تبدیل کر دیا گیا اور وہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں پولیٹیکل انجینئرنگ کا ذریعہ بن کر رہ گئیں، امید ہے کہ پولیٹیکل انجینئرنگ کا سلسلہ بالآخر تھم جائے گا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خالد خورشید نے کہا کہ مفادات کی خاطر عدالتی نظام کے ساتھ ہمیشہ کھلواڑ کی گئی، یہی وجہ ہے کہ اس کا دنیا میں 138واں نمبر ہے۔انہوں نے کہا کہ 6 ججز نے عدالتی معاملات میں مداخلت کو بے نقاب کرنے کے لیے بڑی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے قابل تحسین کام کیا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 75 برس میں ایسا عدالتی سرنڈر کبھی نہیں دیکھا جیسے چیف جسٹس نے 6 ججوں کو ایگزیکٹو کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔



