سرکاری اہلکاروں کی معاونت کے بغیر ججوں کی ذاتی اور خاندانی معلومات تک رسائی ممکن نہ تھی،ایف آئی اے کو خط

اسلام آباد:ایڈووکیٹ ہائی کورٹ رضا ودود قریشی نے ڈی جی ایف آئی اے اور ڈائریکٹر سائنر کرائم کو باضابطہ طور پر درخواست درج کروائی ہے کہ ایک ہفتہ سے نظام عدل ،اعلی عدلیہ ( ہائی کورٹ سپریم کورٹ ) کو بدنام کرنے کیلئے منظم طور پر سوشل میڈیا اور قومی میڈیا پر مہم چلائی جا رہی ہے اس حوالے سے ججز کا ذاتی خاندانی مواد سوشل اور قومی میڈیا کو مہیا اور نشر کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جو صرف ایف آئی اے اور نادرہ کو ہی میسر تھا۔
اس واردات میں اداروں کے اہلکار ہی ملوث ہو سکتے ہیں بطور ایڈووکیٹ ہائی کورٹ جو میرے لئے تکلیف اور پریشانی کا باعث ہے ، وی لاگر اور یو ٹیوبر ججوں کے خلاف مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں سپریم کورٹ کے جج کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام الناس کا نظام عدل اور اعلی عدلیہ کے ججوں پر اعتماد ختم ہو جائے ، بنچ اور بار نظام عدل کیلئے لازم وملزوم ہیں یہ کھناونا مکرو جرم میرے لئے نا قابل قبول ہے اس حوالے سے ایف آئی آر درج فرما کر تمام ملزمان بشمول جن میں ججز کا ڈیٹا افشان کرنے والے سرکاری افسران ، اہلکار ، شامل ہیں جنکی معاونت کے بغیر یہ ڈیٹا یو ٹیوبر ، وی لاگر وغیرہ تک پہنچنا نا ممکن تھا جس سے اعلی عدلیہ کی ساکھ متاثر کرنے کی مکروہ کوشش کی گئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ملزمان پر ایف آر درج کرکےانہیں کیفر کردار تک پہچایا جائے ۔




