بڑے فیصلوں پر دستخط کے بعد اپنے سائن کیمرے کو شو کراتے رہے
سابق صدربائیڈن کے 78 صدارتی اقدمات کو منسوخ کرنے کی دستاویز پر دستخط کیے
کیپٹل حملے میں ملوث 1500 افراد کو معافی، فیڈرل ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کے سہولت بھی ختم

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کا منصب سنبھالنے کےساتھ بھی بڑے بڑے فیصلےکئے ہیں اور ان فیصلوں پر دستخظوں کو کیمرے کو شو کراتے رہے،انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں بھی توقع کے مطابق بڑی بڑی بڑھکیں لگائیں.
صدارت سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نےمتعدد ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کر دیے انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ کر دیے اور متعدد نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کر دیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری تقریب کے بعد کیپٹل ون ارینا میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ٹرمپ کے حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پولیس سمیت مختلف اداروں کے دستوں کی جانب سے نو منتخب صدر کو سلامی دی گئی۔صدر ٹرمپ کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے بھی خطاب کیا اور تقریب میں اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کا تعارف کر ایا۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے متعدد ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے اور سابق صدر جو بائیڈن کے 78 صدارتی اقدمات بھی منسوخ کر دیے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کیپٹل حملے میں ملوث 1500 افراد کو معافی دینے کے آرڈر پر دستخط کیے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیڈرل ملازمین کی بھرتیاں منجمد کرنے کے آرڈر پر دستخط کر دیے۔ٹرمپ نے فیڈرل ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کے سہولت بھی ختم کر دی۔
ٹرمپ نے امریکا کی پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی کے آرڈر پر دستخط کیے اور ساتھ ہی مصنوعی ذہانت پالیسی سےمتعلق بائیڈن کا ایگزیکٹو آرڈرمنسوخ کردیا۔صدر ٹرمپ نے بائیڈن کا 2030 تک الیکٹرک کاروں کی فروخت کا ہدف 50 فیصد کرنے کا آرڈر بھی منسوخ کیا۔
ٹرمپ نے بارڈر سے متعلق اور تارکین وطن کےداخلے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے، کارٹلز کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ۔جنوبی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے۔صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں میں امریکا کو اولین ترجیح دینے کے آرڈر پر دستخط کیے۔اس کے علاوہ ٹرمپ نے امریکی خاندانوں کو قیمتوں میں ایمرجنسی ریلیف دینے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے جبکہ سیاسی مخالفین کے خلاف وفاقی حکومت کو مسلح کرنے کی پالیسی بھی منسوخ کر دی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدرڈونلڈ ٹرمپ نے نگران کابینہ اور کابینہ سطح کے عہدوں کا بھی اعلان کیا، نگران کابینہ کے اراکین عہدوں پر باضابطہ تقرری تک خدمات انجام دیں گے۔ٹرمپ نے اظہار رائے کی آزادی اور سنسر شپ ختم کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔
صدر ٹرمپ نے ٹاک ٹاک سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر ٹک ٹاک کو خریدنے یا بند کرنے اختیار دیتا ہے، ہم نے ٹک ٹاک ڈیل کی اور چین نےتوثیق نہیں کی تو چین پر ٹیرف عائد کرسکتے ہیں۔ٹرمپ نے اٹارنی جنرل کو اگلے 75 دن تک ٹک ٹاک پرکوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک سے متعلق ڈیل کر بھی سکتا ہوں ، ٹاک ٹاک ڈیل کی تو اس کی 50 فیصد ملکیت حاصل کرنا ہوگی، ڈیل نہیں کی تو ٹک ٹاک کسی کام کا نہیں رہےگا۔
ٹرمپ نے جسٹس ڈپارٹمنٹ کو 6 جنوری حملے سے متعلق تمام مؤخر کیسز ختم کرنے کا بھی حکم دیا اور امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت سےعلیحدہ ہونےکے آرڈر پر بھی دستخط کر دیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کروں گا،نہیں جانتا یہ ملاقات کب ہوگی۔
صدرٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم یقیناً وینزویلا سے تیل خریدنا چھوڑ رہے ہیں، میں حیران ہوں کہ بائیڈن نے اپنی پوری فیملی کو معافی دے دی، پہلےدن بہت سے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرنا آمریت نہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینیٹ نے مارکو روبیو کی بطو روزیرخارجہ تقرری کی توثیق کر دی۔وائٹ ہاؤس کے مطابق لیزا کینا سیکرٹری آف اسٹیٹ، رابرٹ سیلسیس سیکرٹری ڈیفنس کے فرائض انجام دیں گے۔
پیر کو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ صدارت کا حلف اٹھایا،جس کے بعد وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے۔امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے عہدے کا حلف لیا۔



