یہ آیوارڈ "انسپائرنگ مثبت تبدیلی” کے اصول کے تحت شروع کیے گئے ہیں
ورلڈ سٹیزن کا یہ اقدام نیکی کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے پھیلتی برائی کے مقابلہ میںیہ اقدام اہم ہے،فرحتین التون
ورلڈ سٹیزن ایوارڈز کا قیام انصاف اور سچائی کا دفاع کرنے والوں کی آواز کو بلندکرنے کے لیے کیا گیا تھا،مہمت زاہد سوباکی

اسلام آباد،استنبول :ورلڈ سٹیزن ایوارڈز،جس کو "مثبت تبدیلی کو متاثر کرنے والی” کے اصول کے تحت 2017 میں ٹی آر ٹی نے شروع کیا تھا، نے اس سال چھٹے ایڈیشن کا انعقادکیا۔ یہ ایوارڈز ٹی آر ٹی (TRT) کےسب سے اہم سماجی ذمہ داری کے اقدامات میں سے ایک ہے جو مختلف ممالک کے ان افراد کو دیئے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی معاشرت کے لیے اہم عالمی شراکتیں کی ہیں، ان کا مقصد دنیا بھر میں اپنی کہانیوں کو وسعت اور مثبت تبدیلی کی ترغیب دینا ہے۔
ورلڈ سٹیزن ایوارڈ، جس نے آج تک 15 مختلف ممالک کے 25 افراد کو اس اعزاز سے نوازا ہے،اس حوالے سے استنبول میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جس کی میزبانی ڈائریکٹر جنرل مہمت زاہد سوباکی نے کی۔ تقریب میں ایوان صدر کے ہیڈ آف کمیونیکیشنز فرحتین التون، ٹی آر ٹی کے ایگزیکٹوز، سیاست دانوں، این جی اوز کے رہنماؤں اور ثقافت، فنون، میڈیا اور اکیڈمی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران فلسطینی گلوکارہ للنور نے فلسطین کے لیے بنائے گئے اپنے گانے Keep Your Key
اور Wake Up پیش کیے۔
ورلڈ سٹیزن ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، فرحتین التون، نے اس بات پر زور دیا کہ ورلڈ سٹیزن کا یہ اقدام نیکی کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے اس دور میں نیکی کو ادارہ جاتی بنانے کے لیے اس اقدام کی اہمیت پر زور دیا کیونکہ برائی بہت عام ہو چکی ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس پروگرام کو ترغیب اور حوصلے کے ٹھوس مظہر کے طور پر دیکھتے ہیں جو ایک انسان دوسرے کو دے سکتا ہے۔اس تناظر میں وہ حقیقی ہیروز کی کہانیاں سنانے اور ان کے لیے مواقع فراہم کرنے کو ایک اہم پہلو کے طور پر دیکھتے ہیں.
انھوں نےاپنے تمام ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس پروگرام میں تعاون کیا اور اس اہم خیال کو ایک پروجیکٹ میں تبدیل کیا۔
انھوں نےکہا” میرا ماننا ہے کہ مزید کئی سالوں تک اس قابل قدر اقدام کو برقرار رہنا چاہیے اور ہمیں اس شعور کے ساتھ عمل کرنا چاہیے کہ نیکی ایک حقیقی آئیڈیل ہے جو نسل در نسل منتقل کیا جا سکتا ہے اور انسانیت کو درپیش ظلم و ستم کو حل کرنے میں ایک موثر ہتھیار ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ پروگرام اس مقصد کو پورا کرے گا۔”
اپنی افتتاحی تقریر میں مہمت زاہد سوباکی نے کہا کہ ہم اپنے تمام وسائل کے ساتھ اپنے ملک کی نیکی کی مہم میں حصہ ڈالتے ہیں، اور نظرانداز کیے گئےلوگوں کو توجہ کامرکز بناتے ہیں۔ ” ورلڈ سٹیزن ایوارڈز کا قیام انصاف اور سچائی کا دفاع کرنے والوں کی آواز کو بلندکرنے کے لیے کیا گیا تھااوراس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ان کی کوششیں زیادہ سے زیادہ سامعین تک پہنچ سکیں۔ سو با کی نے کہا، "گذشتہ برسوں میں ہم نے عالمی شہری ایوارڈ کی تقریبات کا اہتمام کیا ،اور ہم نے دیکھا کہ کس طرح قربانی کی لاتعداد نظر انداز کہانیاں نیکی کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہیرو اور ان کی کہانیاں، جنہیں ہم آج یہاں قریب سے جانیں گے، ہم سب کے لیے نئے افق کھولیں گیں اور مستقبل کی بھلائی کو متاثر کریں گیں۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نیکی کے بارے میں جاننے کا سب سے مؤثر طریقہ ان لوگوں کی پیروی کرنا ہے جو اسکی تشکیل اور حفاظت کرتے ہیں۔
ہمارے 17 ٹیلی ویژن چینلز، 17 ریڈیو چینلز، ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز، بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، اور بین الاقوامی ایونٹس کے ذریعے، ہم نظرانداز کیے گئے لوگوں کوتوجہ کا مرکز بناتے ہوئے انکی آواز کے طور پر کام کرتے ہیں، ہم میڈیا، براڈکاسٹنگ اور پروڈکشن کے شعبوں میں 8 بلین لوگوں کی نمائندگی کے لیے انتھک محنت کرتے ہیں،” انہوں نے امید کی ترغیب دینے والے اور نیکی کے مقصد کو آگے بڑھانے والے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب کے آخر میں جیتنے والوں کو انعامات پیش کیے گئے جس میں "کمیونیکیٹر کیٹیگری میں عظمیٰ دھنجی اور ارحم اشتیاق، "ایجوکیٹر” کیٹیگری میں رانا دجانی، اور "یوتھ کیٹیگری میں ہیلین با نے ایگزیکٹوز سے اپنے ایوارڈ حاصل کیے۔ اسی طرح ڈائریکٹر جنرل مہمت زاہد سوبکی نے” لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ” فلسطین چلڈرن ریلیف فنڈ (PCRF) کے بانی سٹیو سوسبی کو جنگ اور تنازعات کے علاقوں میں ہزاروں بچوں کی زندگیاں بچانے پر پیش کیا۔ورلڈ سٹیزن آف دی ایئر” کا ایوارڈ آسنور ایزگی آیگی کو دیا گیا، جنھیں 6 ستمبر 2024 کو نابلوس میں ایک احتجاج کے دوران اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ہاتھوں المناک طور پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔یہ ایوارڈ ان کے والد محترم مہمت سوات آئگی نے وصول کیا۔اس سال خصوصی ایوارڈ” ڈاکٹر امانی بلور کو دیا گیا، جنہوں نے شام میں جنگ کے دوران ایک ہسپتال کا انتظام کیا
چھٹےTRT ورلڈ سٹیزن ایوارڈز” حاصل کرنےوالے کے ناموں کا اعلان




