
اسلام آباد … پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کو مسلح ڈرونز کی فراہمی سے خطے کا سٹریٹجک توازن خراب ہوگا،بھارت کے جارحانہ عزائم ہمسایہ ممالک اور خطے میں امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں‘بھارت ریاستی دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی معاونت میں ملوث ہے،عالمی برادری بھارت کو جنگی ٹیکنالوجی کی منقتلی سے قبل بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کو مد نظر رکھیں‘ پاکستان حق خودارادیت کےلئے کشمیری عوام کی طرف سے آزادی کی منصفانہ جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔جمعہ کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوںکے مختلف سوالوںکا جواب دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد نفیس زکریا نے کہا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کا حق ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاو سے متعلق قائم کردہ عالمی معیارات کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پرامن مقاصد کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری گزشتہ 70 برس سے بھارتی ظلم و بربریت کا شکار ہیں، بے گناہ نوجوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور خواتین کی عصمت دری کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ترجمان نے امریکہ کی جانب سے بھارت کو مسلح ڈرونز کی فراہمی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو مسلح ڈرونز کی فراہمی سے خطے کاسٹریٹجک توازن خراب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر دہشت گردتنظیموں کی مدد کرتا ہے اور دہشت گردوں کا معاون اور غیر ذمہ دار ملک ہے‘ عالمی برادری بھارت کو کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی کی فراہمی سے قبل بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کو مدنظر رکھیں۔پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ امریکی وزیرخارجہ کے حالیہ دورہ پاکستان میں دونوں ممالک نے باہمی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ۔انہوں نے کہا امریکی وزیرخارجہ کے ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کی بھارتی معاونت کے معاملے کو اٹھایا گیا جب کہ ایل او سی اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کوبھی اجاگر کیا گیا




