اسرائیل کے 600 سے زائد سابق سیکورٹی اہلکاروںنے غزہ جنگ بندی کے لئے ٹرمپ کو خط لکھ دیا
اسلام آباد:اہل غزہ پربڑھتے اسرائیلی مظالم نے یہودیوں کی بھی چیخیں نکال دی ہیں اور وہ اپنی ہی حکومت کے خلاف کھل کر میدان میںآگئے ہیں.اسرائیلی میڈیا کے ذرائع کے مطابقاسرائیل کے 600 سے زائد سابق سکیورٹی عہدیداروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر غزہ میں جنگ بندی کروانے کا مطالبہ کر دیا ہے.
اسرائیلی میڈیا کے مطابق موساد کے سابق چیف، اسرائیل کی داخلی خفیہ ایجنسی شاباک (شین بیت) کے سابق چیف اور آئی ڈی ایف کے سابق نائب سربراہ نے اعلان کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر موجودہ جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔
یاد رہے کہ یہ اعلیٰ حکام کمانڈرز فار اسرائیلی سکیورٹی (CIS) نامی گروپ کی قیادت کرتے ہیں جو اب 600 سے زائد سابق سینیئر سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ہے۔
خط میں امریکی صدر ٹرمپ سے کہا گیا کہ ہم آپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ غزہ کی جنگ کو ختم کریں۔ آپ نے یہ کام لبنان میں کیا تھا۔ اب وقت ہے کہ غزہ میں بھی یہی کیا جائے۔
سابق اسرائیلی سکیورٹی عہدیداروں نے خط میں لکھا کہ یہ ہمارا پیشہ ورانہ تجزیہ ہے کہ حماس اب اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہی۔
یاد رہے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس گروپ نے حکومت پر دباؤ ڈالا ہو کہ وہ اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لائے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی اور غزہ کے لیے جنگ کے بعد کے منصوبے پر زیادہ توجہ دے۔


