مودی کے لئے نئی مشکل، سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارت کو تیل کی فروخت روک دی

مستقبل میں نایارا انرجی خام تیل کی درآمد کے لیے مکمل طور پر روس پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئی ہے

اسلام آباد:بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جو اس دنوں اپنی پالیسیوں کے باعث سخت مشکلات کا شکار ہیں ان کے لئے ایک نئی مشکل اس وقت سامنے آئی ہے جب سعودی اور عراقی کمپنیوں نے بھارت کو خام تیل کی فروخت روک دی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سعودی آرامکو اور عراق کی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی سومو نے یورپی یونین کی جولائی میں عائد کردہ پابندیوں کے بعد روسی حمایت یافتہ بھارتی ریفائنری کمپنی نایارا انرجی کو خام تیل کی فروخت معطل کر دی ہے۔
لندن اسٹاک ایکسچینج گروپ (ایل ایس ای جی) کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق خلیجی برآمد کنندگان کی جانب سے سپلائی روکنے کے بعد نایارا انرجی، جس کی بڑی شیئر ہولڈر روسی آئل کمپنی روزنیفٹ ہے، اگست میں خام تیل کی درآمد کے لیے مکمل طور پر روس پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئی۔
کپلر اور ایل ایس ای جی کے شپمنٹ ڈیٹا کے مطابق نایارا عام طور پر ہر ماہ تقریبا 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل اور 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل حاصل کرتی ہے، تاہم اگست میں اسے دونوں سپلائرز کی جانب سے کوئی کارگو موصول نہیں ہوا۔خبررساں ایجنسی کے مطابق سومو اور نایارا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا جبکہ سعودی آرامکو نے بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔یاد رہے کہ روسی تیل کی خریداری کے باعث امریکا نے بھی بھارت پر 50 فیصد تجارتی ٹیرف عائد کیا ہوا ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے تجارتی معاملات پر گزشتہ روز کہا کہ اب بھارت نے اپنے محصولات کو صفر کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی، یہ پیش کش کئی سال پہلے کر دینی چاہیے تھی۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مسلسل نظرانداز کرنے اور بھارت پر پابندیاں لگانے کے باعث نریندرا مودی اس وقت شدید دبائو کا شکار ہیں۔