مودی زیرو ہو گیا ، شہبازشریف اور عاصم منیر ٹرمپ کے ہیرو کے طو رپر سامنے آئے
چین سے دوستی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تعریفوں نے مودی کی پریشانیاں بڑھا دیں
شہباز شریف نے ماضی میں ٹرمپ کی تعریفیں کر کے جو احسان چڑھایا تھا ٹرمپ نے سود کے ساتھ واپس کر دیا
7 طیاروں کی تباہی کا ذکر کر کے مودی کی دکھتی رگ چھیڑی وہیں مودی کو کلر عاصم منیر کو فائٹر قراردے کر جلتی پر تیل چھڑکا
ٹرمپ کے ان بے رحمانہ حملوں سے نہ صرف بھارتی وزیرامظم مودی سخت پریشان ہیں بلکہ بھارت کی ساکھ بھی دائو پر لگی ہوئی ہے
اسلام آباد(رپورٹ: محمد رضوان ملک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو لتاڑنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے انہوں نے حال ہی میں اپنے دورہ ملائیشیا اور کوریا کے دوران بھی مودی پر زبانی حملوں اور طنزیہ جملوں کا یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اصل میںتو وہ بائیڈن کے مقابلے میںخود کو نمایاںکرنا چاہتے تھے مودی اس زد میںآگئے
جنوبی کوریا میں ایپک سی ای او سمٹ کے ظہرانے میں گفتگوکے دوران بھی مودی ٹرمپ کے نشانے پر رہے اور انہوں نے دل کھول کر مودی کی چھترول کی۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوانے کے حوالے سے اپنی تعریفوں کے چکر میں مودی کی مٹی پلید کر دی۔و ہ بڑے فخر سے دنیا کو بتانا چاہ رہے تھے کہ جنگ رکوانے کے حوالے سے انہوں نے جو کارنامے سرانجام دئیے بائیڈن وہ کبھی نہ کر سکتے تھے تاہم اپنے اس جوش خطابت میں انہوں نے ہندوستان اور مودی کی بھی دل کھول کر دھلائی کی۔ انہوں نے جنگ کی ہولناکیوں کا ذکر کر تے ہوئے جہاں 7 طیاروں کی تباہی کا ذکر کر کے مودی کی دکھتی رگ چھیڑی وہیں مودی کو کلر عاصم منیر کو فائٹر قراردے کر جلتی پر تیل بھی چھڑکا۔
صدر ٹرمپ اصل میں خود ثنائی کے عادی ہیں اور جب وہ خود کو نمایاں کرنے اور برتر ثابت کرنے پر آتے ہیں تو کسی دوستی اور عزت کا لحاظ نہیں کرتے ۔مودی کے لئے سب سے بڑی پرابلم یہ ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران my friend Donald Trump کا راگ الاپتے رہے لیکن معاملہ اس کے الٹ نکلا ۔اب جب ٹرمپ ان پر تنقید کرتے ہیں تو وہ نہ تو جواب دے سکتے ہیں اور نہ کسی کو منہ دکھا سکتے ہیں۔ٹرمپ کے ان بے رحمانہ حملوں سے نہ صرف مودی سخت پریشان ہیں بلکہ بھارت کی ساکھ بھی دائو پر لگی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے اس خطاب کے دوران دبے لفظوں میں یہ بھی واضح کر دیا کہ مودی نے دو دن پہلے ان کی بات نہیں مانی اور جب پاکستان سے ٹھکائی کروا چکے تو مان گئے ۔ مودی اور بھارت کے لئے اس سے بھی زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ٹرمپ چین کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر کرنے کے چکر میں ہیں اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر جنوبی ایشیاء میں بھارت کی عالمی اہمیت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔
سب سے پہلے تو ٹرمپ نے سامعین پر یہ واضح کیا کہ نے مودی کو وارننگ دی کہ تم پاکستان کے ساتھ جنگ کر رہے ہو، ہم معاہدہ نہیں کریں گے نہ تمھارے ساتھ تجار ت کریں گے۔ٹرمپ کے مطابق میں نے کہا اگر جنگ نہیں روکی تو پاکستان اور بھارت پر 250 فیصد ٹیکس لگا دوں گا، 250 فیصد ٹیکس کا مطلب ہے کہ تم کبھی کاروبار نہیں کر سکو گے، اس کے بعد صرف 48 گھنٹوں میں کوئی جنگ نہیں رہی۔ امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت آپس میں لڑائی پر اتر آئے تھے اور جنگ میں 7 طیارے مار گرائے گئے، یہ بہت بڑی بات تھی کیونکہ یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ دو دن میں دونوں ممالک نے فون کیا اور کہا کہ ہم سمجھ گئے اور لڑائی بند کر دی، کیا یہ حیرت انگیز نہیں؟ کیا بائیڈن ایسا کرسکتے تھے؟ مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ ہم نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچا لیں۔اوپر سے ٹرمپ نے یہ کہ کر جلتی پر تیل چھڑک دیا کہ مودی ایک کلر ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بہت اچھے آدمی ہیں جب کہ فیلڈ مارشل بہت زبردست فائٹر ہیں۔اس طرح انہوں نے دنیا کو یہ تاثر دیا کہ بھارت کی سکت نہیں کہ وہ اس زبردست فائٹر سے جنگ کر سکے اس سے بھارت کی عالمی ساکھ مٹی میں مل گئی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے شہبازشریف اورفلیڈ مارشل عاصم کی تعریف کی ہو۔یہ سلسلہ پاک بھارت جنگ کے بعد سے جاری رہے ، شہباز شریف نے جنگ بندی پر دل کھول کر ٹرمپ کی تعریف کی تھی اور پاکستان نے انہیں امن کے نوبل انعام کے لئے بھی نامزد کیا تھا۔ٹرمپ بھی اب اس احسان کا بدلہ چکا رہے ہیں اور وہ بھی سود کے ساتھ
حتیٰ کہ ٹرمپ نے ماضی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں خصوصی کھانا کیا تھا اور امریکی جنرلز سے خطاب میں فیلڈ مارشل کی تعریف کو اپنے لیے اعزاز قراردیا تھا۔



