سرکاری قرضے میں ایک ہزار371 ارب روپے کمی جون 2025 ء سے ستمبر 2025 ء کے درمیان آئی
یہ سب بہترمالی نظم و ضبط اورمہنگے قرضوں کی قبل ازوقت ادائیگی سے ممکن ہوا، مشیر خزانہ خرم شہزادکا ایکس پر پیغام
اسلام آباد:قیام پاکستان سے اب تک بیشتر وقت پاکستان کے سرکاری قرضے میں ہمیشہ اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے تاہم پہلی بار ایسا ہو اہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان کے سرکاری قرضے میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے سرکاری قرض میں ایک ہزار تین سو اکہتر ارب روپے کمی کا دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا بہترمالی نظم و ضبط اورمہنگے قرضوں کی قبل ازوقت ادائیگی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا۔
وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فامر ایکس پر پیغام میں کہا کہ جون دوہزار پچیس میں سرکاری قرض اسی ہزار پانچ سو اٹھارہ ارب روپے تھا۔ ستمبر میں یہ قرضہ اناسی ہزار ایک سو چھیالیس ارب روپے پر آگیا۔ مشیر وزیرخزانہ کے مطابق انہتر ماہ بعد پہلی بار سہ ماہی بنیاد پرقرضے میں کمی آئی، یہ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سہ ماہی بنیاد پر کمی ہے۔ خرم شہزاد نے کہا کہ ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی روپے کی قدر میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 01 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 280 روپے 71 پیسے ہو گئی ہے۔انٹربینک مارکیٹ میں سعودی ریال کی قدر 74 روپے 85 پیسے جبکہ بحرینی دینار کی قدر 744 روپے 54 رہی۔اسی طرح عمانی ریال کی انٹربینک مارکیٹ میں قدر 729 روپے 12 پیسے رہی، کویتی دینار کی قدر 915 روپے 29 پیسے اور قطری ریال کی قدر 77 روپے ریکارڈ کی گئی۔دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید 281 روپے 55 پیسے اور قیمت فروخت 281 روپے 80 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔


