ورکشاپ میں او آئی سی کے 18 سے زائد رکن اور مبصر ممالک کے نمائندگان سائبر تحفظ کے جدید رجحانات پر تبادلہِ خیال کر رہے ہیں
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی) ملائیشیا کی جامعہ ٹیکنالوجی مارا میں مصنوعی ذہانت، سائبر تحفظ اور انقلابی ٹیکنالوجیز کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی ورکشاپ کا آغاز ہو گیا۔ اس ورکشاپ میں او آئی سی کے 18 سے زائد رکن اور مبصر ممالک کے ماہرین، سرکاری افسران، سائبر تحفظ کے ماہرین اور تعلیمی اداروں کے نمائندگان شریک ہیں۔ ورکشاپ او آئی سی کے ذیلی ادارے کامسٹیک کے زیرِ انتظام ادارہ برائے تربیت و تحقیق برائے مصنوعی ذہانت و جدید ٹیکنالوجیز اور جامعہ ٹیکنالوجی مارا کے ادارہ ادارہ برائے اعداد و شمار و مصنوعی ذہانت کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے، جبکہ ہواوے ٹیکنالوجیز، او آئی سی کمپیوٹر ایمرجنسی سروس نیٹ ورک اور سائبر سکیورٹی ملائیشیا اس میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
کامسٹیک کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اس ورکشاپ میںآذربائیجان، بنگلہ دیش، برونائی، کیمرون، چین، انڈونیشیا، ایران، موریطانیہ، مراکش، ملائیشیا، نائجیریا، عمان، پاکستان، سعودی عرب، سوڈان، تائیوان، ترکیہ اور یوگنڈا کے مندوبین آن لائن اور فزیکل شرکت کر رہے ہیں۔
ورکشاپ میں اساتذہ، صنعت سے وابستہ ماہرین، سرکاری حکام، سائبر تحفظ کے ماہرین، او آئی سی کمپیوٹر ایمرجنسی ٹیم کے اراکین اور نوجوان محققین شریک ہیں، جو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ترقی اور سائبر تحفظ کے جدید رجحانات پر تبادلہِ خیال کر رہے ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز نے دنیا بھر کے معاشروں اور معیشتوں کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ٹیکنالوجیز تیز تر ترقی، مضبوط قومی سلامتی، بہتر حکمرانی، عوامی سہولیات میں بہتری اور معاشی استحکام کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کامسٹیک مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہا ہے، جن میں او آئی سی مصنوعی ذہانت وژن کی تیاری، تربیتی و تحقیقی مراکز کا قیام، عالمی سیمینارز، نمائشیں، ہیکاتھونز اور استعداد کار میں اضافے کے پروگرام شامل ہیں۔
ورکشاپ 26 نومبر تک جاری رہے گی جس کے دوران مختلف ممالک کی تفصیلی پیشکشیں، مکالمے اور مطالعاتی دورے بھی منعقد کیے جائیں گے۔



