امریکہ :سفری پابندیوں کے ممالک کی تعداد 30 تک بڑھ سکتی ہے

امریکہ نے پہلے ہی19 ممالک کے باشندوں کی امیگریشن بندکر رکھی ہے تاہم پاکستان بچ گیا
ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے میں ان درخواستوں میں گرین کارڈ اور امریکی شہریت کی کارروائیاں بھی شامل ہیں
متاثرہ ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں
جزوی پابندی والے دیگر ممالک میں برونڈی، کیوبا، لاس، سیئرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا شامل ہیں،پاکستان بال بال بچ گیا

واشنگٹن:امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کا شکار ممالک کی تعداد 19 سے بڑھ کر 30 ہوسکتی ہے اور اس حوالے سے صدر ٹرمپ پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں قبل ازیں امریکہ نے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کی بنیاد پر 19 ممالک کی تمام امیگریشن درخواستوں پر کارروائی کو روک دیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کے باعث 19 غیر یورپی ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی جانب سے جمع کروائی گئی تمام امیگریشن درخواستوں کی پراسیسنگ روک دی، ان درخواستوں میں گرین کارڈ اور امریکی شہریت کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ یہ پابندی ان 19 ممالک پر لاگو کی گئی ہے جن پر جون میں جزوی سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
بتایا گیا ہے کہ اس اقدام سے امیگریشن پالیسیاں مزید سخت ہو جائیں گی جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے، ان ممالک میں افغانستان اور صومالیہ بھی شامل ہیں، سرکاری میمورنڈم میں واشنگٹن میں نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیا گیا ہے، میمورنڈم میں شامل ممالک میں افغانستان، برما، چاڈ، کانگو، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں، جن پر جون میں سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں جب کہ جزوی پابندی والے دیگر ممالک میں برونڈی، کیوبا، لاس، سیئرالیون، ٹوگو، ترکمانستان اور وینزویلا شامل ہیں۔پاکستان بال بال بچ گیا اس کا نام تاحال ان دونوں فہرست میں شامل نہیں ہے ۔
بتایا جارہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جنوری میں دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد امیگریشن قوانین کے نفاذ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا اور اب نئی پالیسی کے تحت ان ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی زیرِ التوا درخواستیں روک دی گئی ہیں اور ان کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے گا جس میں ممکنہ انٹرویو اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ انٹرویو بھی شامل ہوگا تاکہ قومی سلامتی اور عوامی تحفظ سے متعلق تمام خدشات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔امریکی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان ممالک کی تعداد انیس سے بڑھ کر تیس تک جاسکتی ہے اور اس حوالے سے صدر ٹرمپ پالیسی کا جائزہ لے رہے ہیں۔